تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 339
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۳۹ سورة الاحزاب خدا کی راہ میں جان دینی پڑ جائے تو پھر دے دیں گے۔انہوں نے تو خدا کی راہ میں مرنے کو قبول کیا ہوا تھا جتنے صحابہ جنگوں میں جاتے تھے کچھ تو شہید ہو جاتے تھے اور کچھ واپس آجاتے تھے اور جو شہید ہو جاتے تھے ان کے اقرباء پھر ان سے خوش ہوتے تھے کہ انہوں نے خدا کی راہ میں جان دی اور جو بچے آتے تھے وہ اس انتظار میں رہتے تھے اور شا کی رہتے کہ شاید ہم میں کوئی کمی رہ گئی جو ہم جنگ میں شہید نہیں ہوئے اور وہ اپنے ارادوں کو مضبوط رکھتے تھے اور خدا کے لئے جان دینے کو تیار رہتے تھے جیسے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بدلُوا تَبْدِيلًا - الحکم جلد ۱۱ نمبر ۳۴ مورخه ۲۴ ستمبر ۱۹۰۷ صفحه ۹) آنحضرت صلعم کے صحابہ ایک لاکھ سے متجاوز تھے میرا ایمان ہے کہ ان میں سے کسی کا بھی ملونی والا ایمان نہ تھا۔ایک بھی ان میں سے ایسا نہ تھا جو کچھ دین کے لئے ہو اور کچھ دنیا کے لئے بلکہ وہ سب کے سب خدا کی راہ میں جان دینے کے لئے تیار تھے جیسے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُم مَّنْ الحکم جلد ۱۱ نمبر ۳۵ مورخه ۱٫۳۰ ستمبر ۱۹۰۷، صفحہ ۷ ) ينتَظِرُ - وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الأولى وَأَقِمْنَ الصَّلوةَ وَاتِينَ الزكوة وَ اَطِعْنَ اللهَ وَرَسُولَهُ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ البيت ويطهركم تطهيرات اِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیر یعنی اے اہل بیت خدا تمہیں ایک امتحان کے ذریعہ سے پاک کرنا چاہتا ہے جیسا کہ حق ہے پاک کرنے کا۔( مجموعہ اشتہارات جلد ۱۰ صفحہ ۷۱۷) جہاں یہ آیت ہے وہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں ہی کا ذکر ہے۔سارے مفسر اس پر متفق ہیں کہ اللہ تعالی امہات المؤمنین کی صفت اس جگہ بیان فرماتا ہے۔دوسری جگہ فرمایا ہے الطيبتُ لطيبين ( النور : ۲۷) یہ آیت چاہتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والے طیبات ہوں۔ہاں اس میں صرف بیبیاں ہی شامل نہیں بلکہ آپ کے گھر کی رہنے والی ساری عورتیں شامل ہیں اور اس لئے اس