تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 340 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 340

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴۰ سورة الاحزاب میں بنت بھی داخل ہو سکتی ہے بلکہ ہے اور جب فاطمہ رضی اللہ عنہا داخل ہو ئیں تو حسنین بھی داخل ہوئے۔پس اس سے زیادہ یہ آیت وسیع نہیں ہو سکتی تھی۔جتنی وسیع ہو سکتی تھی ہم نے کر دی کیونکہ قرآن شریف ازواج کو مخاطب کرتا ہے اور بعض احادیث نے حضرت فاطمہ اور حسنین کو مطہرین میں داخل کیا ہے۔پس ہم نے دونو کو یکجا جمع کر لیا۔شیعہ نے ازواج مطہرات کو سب وشتم سے یاد کیا ہے اور چونکہ خدا تعالیٰ کو معلوم تھا کہ یہ لوگ ایسا کریں گے۔اس لئے قبل از وقت ان کی براءت کر دی۔(احکم جلد ۷ نمبر ۱۵مورخہ ۱٫۲۴ پریل ۱۹۰۳ صفحه ۹) اہل بیت جو ایک پاک گروہ اور بڑا عظیم الشان گھرانا تھا اس کے پاک کرنے کے واسطے بھی اللہ نے خود فرمایا کہ إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الإِجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا میں ہی ناپاکی اور نجاست کو دور کروں گا اور خود ہی ان کو پاک کیا تو بھلا اور کون ہے جو خود بخود پاک صاف ہونے کی توفیق رکھتا ہو پس لازمی ہے کہ اس سے دعا کرتے رہو اور اسی کے آستانہ پر گرے رہو ساری توفیقیں اسی کے ہاتھ میں ہیں۔الحکم جلد نمبر ۱۴ مورخہ ۱۷ را پریل ۱۹۰۳ صفحه ۹) ۱۷۱۷ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ تم سے اے اہلِ بیت ناپاکی دور کر دے اور تم کو بالکل پاک کر دے۔الحام جلد نمبر ۴ مورخہ ۳۱؍ جنوری ۱۹۰۷ صفحہ ۷ ) اِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَتِ وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَتِ وَالْقَنِتِينَ وَالْقَنِتَتِ وَالصَّدِقِينَ وَالدِقتِ وَ الصَّبِرِينَ وَ البِرتِ وَ الْخَشِعِينَ وَالْخَشِعَتِ وَ المُتَصَدِقِينَ وَالْمُتَصَدِقتِ وَالصَّامِينَ وَالصّيتِ وَالْحَفِظِينَ فُرُوجَهُمْ وَالْحَفِظَتِ وَالذَّاكِرِينَ اللَّهَ كَثِيرًا وَ الكِرَاتِ أَعَدَّ اللهُ لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَأَجْرًا عَظِيمًا وَالصُّدِقِينَ وَالصدقت۔۔۔۔۔۔بچے مرد اور سچی عورتیں بڑے بڑے اجر پائیں گے۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۶۱) وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللهُ وَرَسُولُ اَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْ وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَلًا مُّبِينًا کسی مومن یا مومنہ کو جائز نہیں ہے کہ جب خدا اور اس کا رسول کوئی حکم کرے تو ان کو اس حکم کے رد