تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 338 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 338

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۳۸ سورة الاحزاب ب مِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ یعنی بعض ان میں سے شہادت پاچکے اور انہوں نے گویا اصل مقصود حاصل کر لیا اور بعض اس انتظار میں ہیں اور چاہتے ہیں کہ شہادت نصیب ہو۔صحابہ دنیا کی طرف نہیں جھکے اور عمریں لمبی ہوں اور اس قدر مال و دولت ملے اور یوں بے فکری اور عیش کے سامان ہوں میں جب صحابہ کے اس نمونہ کو دیکھتا ہوں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی اور کمال فیضان کا بے اختیار اقرار کرنا پڑتا ہے کہ کس طرح پر آپ نے ان کی کایا پلٹ دی اور انہیں بالکل رو بخدا کر دیا۔(اللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَ عَلى مُحَمَّد وَبَارِك وَسَلّمْ ) - الحام جلد ۹ نمبر ۳۸ مورخه ۳۱/اکتوبر ۱۹۰۵ صفحه ۴) صحابہ کے دلی ارادے اور نفسانی جذبات بالکل دور ہو گئے تھے۔ان کا اپنا کچھ رہا ہی نہیں تھا۔کوئی خواہش تھی نہ آرزو بجز اس کے کہ اللہ تعالیٰ راضی ہو اور اس لئے وہ خدا کی راہ میں بکریوں کی طرح ذبح ہو گئے۔قرآن شریف ان کی اس حالت کے متعلق فرماتا ہے مِنْهُم من قضى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا - یہ حالت انسان کے اندر پیدا ہو جانا آسان بات نہیں کہ وہ خدا کی راہ میں جان دینے کو آمادہ ہو جاوے مگر صحابہ کی حالت بتاتی ہے کہ انہوں نے اس فرض کو ادا کیا۔جب انہیں حکم ہوا کہ اس راہ میں جان دے دو پھر وہ دنیا کی طرف نہیں جھکے۔الحکم جلد ۱۰ نمبر امورخه ۱۰ر جنوری ۱۹۰۶ صفحه ۴) یہ امر سنت اللہ کے خلاف ہے کہ پھونک مار کر ولی بنادیا جاوے۔اگر یہی سنت ہوتی تو پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے اور اپنے جاں نثار صحابہ کو پھونک مار کر ہی ولی بنا دیتے۔ان کو امتحان میں ڈلوا کر ان کے سر نہ کٹواتے اور خدا تعالیٰ ان کی نسبت یہ نہ فرما تا مِنْهُم من قضى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَ مَا بَدَّلُوا تَبْدِيلاً۔پس جب دنیا بغیر مشکلات اور محنت کے ہاتھ نہیں آتی تو عجب بیوقوف ہے وہ انسان جو دین کو حلوائے بے دود سمجھتا ہے۔یہ تو سچ ہے کہ دین سہل ہے مگر ہر نعمت مشقت کو چاہتی ہے۔الحکم جلد ۱۰ نمبر ۲۱ مورخه ۱۷ جون ۱۹۰۶ صفحه ۳) صحابہ کی جو تکمیل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کی وہ اس سے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ خود ان کی نسبت فرماتا ہے مِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ اور پھر ان کی نسبت رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ (التوبة :١٠٠) فرمایا۔الحکم جلد ۱۰ نمبر ۲۷ موحدہ ۳۱؍ جولائی ۱۹۰۶ صفحہ ۴) صحابہ کے زمانہ پر اگر غور کیا جاوے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں نے ابتدا سے فیصلہ کر لیا ہوا تھا کہ اگر