تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 301 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 301

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٣٠١ سورة الروم وَالْإِنجِيلُ فَيَتُرُكَانِ الْإِنْسَانَ إِلى حَدٍ هُوَ الجيل انسان کو اس مقام پر چھوڑ دیتی ہیں جو انسان کی أَبْعَدُ مِنَ الشَّهَادَةِ الْفِطْرِيَّةِ الْقُدْسِيَّةِ پاکیزہ فطرت کی شہادت سے بہت دور ہے اور قوتِ وَأَقْرَبُ إِلى دَخْلِ إِفْرَاطِ الْقُوَّةِ الْغَضَبِيَّةِ، أَوْ غضبیہ اور قوت واہمہ کی افراط و تفریط کے دخل کے تَفْرِيطِ الْقُوَّةِ الْوَاهِمَةِ، حَتَّى يُمكِن أَنْ يُسَمَّى زیادہ قریب ہے یہاں تک کہ عقلمندوں کے نزدیک یہ الْمُنتَقِمُ في بَعْضِ الْمَوَاضِع ذِلْبًا مُؤْذِيَّا عِنْدَ بھی ممکن ہے کہ بعض مواقع پر انتقام لینے والے کو الْعُقَلَاءِ ، أَوْ يُسَمَّى الَّذِي عَفَا فِي غَيْرِ فَحَلِهِ موذی بھیڑیے کا نام دیا جائے یا جو شخص بے موقع عفو وَأَغْضَى مَثَلًا عِندَ رُؤْيَةِ فِسْقٍ أَهْلِهِ دَيُوناً سے کام لیتا ہے یا اپنے اہل کے فسق کو دیکھ کر چشم پوشی وَقِيعًا عِندَ أَهْلِ الْغَيْرَةِ وَالْحَيَاء وَلِذَالِكَ کرتا ہے ممکن ہے اسے ارباب غیرت اور اہل حیا تَرى في بَعْضِ الْمَوَاضِع رَجُلًا سَرَّهُ تَعْلِيمُ دیوث قرار دیں اس لئے تم بعض مواقع پر دیکھو گے الْعَفْوِ يَتْرُكُ حَقِيقَةَ الْعَفْوِ وَالرَّحْمَةِ، وَيُجَاوِزُ کہ ایک شخص جو عفو کی تعلیم کو اچھا سمجھتا ہے وہ رحم اور عفو حُدُودَ الْغَيْرَةِ الْإِنْسَانِيَّةِ فَإِنَّ الْعَفْوَ فِي كُلّ کی حقیقت کو چھوڑ دیتا ہے اور غیرت انسانی کی حدود فَحَلٍ لَّيْسَ مَحْمَوْدٍ عِنْدَ الْعَاقِلِينَ، وَكَذَالِكَ سے تجاوز کر جاتا ہے کیونکہ عظمندوں کے نزدیک الانْتِقَامُ في كُلِّ مَقَامٍ لَّيْسَ بِغَيْرِ عِندَ بے موقع عفو قابل تعریف نہیں اور نہ ہی تدبر کرنے الْمُتَدَيرِينَ فَلَا شَكَ أَنَّهُ مَنْ أَوْجَبْ الْعَفْوَ والوں کے نزدیک انتقام ہر جگہ لائق تحسین ہے پس عَلَى نَفْسِهِ فِي كُلِّ مَقَامٍ بِمُتَابَعَةِ الْإِنْجِيلِ اس میں شک نہیں کہ جو شخص انجیل کی پیروی میں ہر جگہ فَقَدْ وَضَعَ الْإِحْسَانَ فِي غَيْرِ فَجَلِهِ في بَعْضِ اپنے نفس پر عفو کو لازم کر لیتا ہے تو گویا بعض حالات الْحَالاتِ، وَمَنْ أَوْجَبَ الْاِنْتِقَامَ عَلى نَفْسِه میں وہ احسان کو بے محل کرنے کا فیصلہ کرتا ہے اور جو في كُلّ مَقَامٍ بمتابعةِ التَّوْرَاةِ فَقَدْ وَضَعَ شخص تورات کی پیروی میں ہر جگہ انتقام کو ضروری قرار الْقِصَاصَ فَى غَيْرِ فَحَلِهِ وَالْحَط مِن مَّدَارِج دیتا ہے تو وہ بعض اوقات بے موقع قصاص لینے کا الْحَسَنَاتِ۔وَأَمَّا الْقُرْآنُ فَقَدْ رَغَبَ فِي مِثْلِ فیصلہ کر دیتا ہے اور حسنات کی بلندیوں سے گر جاتا ہے هذِهِ الْمَوَاضِع إِلى شَهَادَةِ الشَّرِيعَةِ الْفِطْرِيَّةِ لیکن قرآن کریم نے ان جگہوں میں اس شریعت فطریہ الَّتى تَنْبَعُ مِن عَيْنِ الْقُوَّةِ الْقُدْسِيَّةِ وَتَنْزِلُ کی شہادت کی طرف رغبت دلائی ہے جو قوت قدسیہ مِنْ رُوحِ الْأَمِينِ في جَلْدِ الْقُلُوبِ الصَّافِيَّةِ کے چشمہ سے پھوٹتی ہے اور جبریل کی طرف سے