تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 302 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 302

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الروم وَقَال جَزْؤُا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةُ مِثْلُهَا ۚ فَمَنْ عَفَا پاک دل کی گہرائیوں میں اترتی ہے اللہ تعالیٰ نے وَأَصْلَحَ فَاجْرُهُ عَلَى اللهِ فَانظر إلى هذه فرمایا ہے جَزْوُا سَيْئَةٍ سَيْئَةٌ مِثْلُهَا فَمَنْ عَفَا الرَّقِيقَةِ الرُّوحَانِيَّةِ، فَإِنَّهُ أَمْرُ بِالْعَفْوِ عَنِ وَأَصْلَحَ فَاجْرُهُ عَلَى اللهِ۔پس روحانی نکتہ پر غور الْجَرِيمَةِ بِشَرْطٍ أَنْ يَتَحَقِّقَ فِيْهِ إِصْلاح کریں کیونکہ اس میں جرم کو معاف کرنے کا حکم ہے لنَفْسٍ وَإِلَّا أَجزاء السَّيِّئَةِ بِالسَّيِّئَةِ، وَلَمَّا كَانَ بشرطیکہ اس سے نفس کی اصلاح ہوتی ہو ورنہ برائی کا فَجَزَاءُ الْقُرْآن خَاتَمَ الكُتُبِ وَأَكْمَلَهَا وَأَحْسَنَ بدلہ برائی ہی ہے۔اور چونکہ قرآن کریم خاتم الکتب الصُّحُفِ وَأَجْمَلَهَا، وَضَعَ أَسَاسَ التَّعْلِيمِ عَلَی اور کامل کتاب اور خوبصورت اور بہترین صحیفہ ہے مُنْتَهى مِعْرَاجِ الْكَمَالِ وَجَعَلَ الشَّرِيعَةَ اس لئے اس نے اپنی تعلیم کی بنیاد انتہائی کمال پر الْفِطْرِيَّةَ زَوْجًا لِلطَّرِيعَةِ الْقَانُونِيَّةِ فِي كُلّ رکھی ہے اور تمام حالات میں شریعتِ فطریہ کو الْأَحْوَالِ لِيَعْصِمَ النَّاسَ مِنَ الضَّلَالِ شریعت قانونیہ کا جوڑا قرار دیا ہے تا لوگوں کو گمراہی وَأَرَادَ أَنْ تَجْعَلَ الْإِنْسَانَ كَالْمَيَّتِ لَا يَتَحَرِّكُ سے بچائے اور اس نے چاہا کہ انسانی نفس کو ایک إلَى الْيَمِينِ وَلَا إلَى الِ، وَلَا يَقْدِرُ عَلی ایسے مردہ کی طرح کر دے جو دائیں بائیں حرکت عَفْوِ وَلَا عَلَى انْتِقَامٍ إِلَّا حُكْمِ الْمَصْلِحَةِ مِن نہیں کر سکتا اور نہ وہ خدائے ذوالجلال کے مصلحت الله ذي الجلال۔آمیز حکم کے بغیر عضو یا انتقام پر قادر ہو سکتا ہے۔یا (خطبہ الہامیہ، روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحه ۳۱۶،۳۱۵)۔(ترجمه از مرتب) ایک علم کا ذریعہ انسانی کانشنس بھی ہے جس کا نام خدا کی کتاب میں انسانی فطرت رکھا ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فطرت الله الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا یعنی خدا کی فطرت جس پر لوگ پیدا کئے گئے ہیں۔اور وہ نقش فطرت کیا ہے؟ یہی ہے کہ خدا کو واحد لاشریک، خالق الکل، مرنے اور پیدا ہونے سے پاک سمجھنا۔اور ہم کانشنس کو علم الیقین کے مرتبہ پر اس لئے کہتے ہیں کہ گو بظاہر اس میں ایک علم سے دوسرے علم کی طرف انتقال نہیں پایا جاتا جیسا کہ دھوئیں کے علم سے آگ کے علم کی طرف انتقال پایا جاتا ہے۔لیکن ایک قسم کے باریک انتقال سے یہ مرتبہ خالی نہیں ہے۔اور وہ یہ ہے کہ ہر ایک چیز میں خدا نے ایک نامعلوم خاصیت رکھی ہے جو بیان اور تقریر میں نہیں آسکتی۔لیکن اس چیز پر نظر ڈالنے اور اس کا تصور کرنے سے الشوری: ۴۱