تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 293 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 293

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹۳ سورة الروم ادھر رومی غالب ہوئے اور ادھر مسلمانوں کو فتح ہوئی۔(الحکم جلدے نمبر ۱۶ مورخہ ۱/۳۰ پریل ۱۹۰۳ صفحه ۲) آنحضرت کے زمانہ میں ایرانی لوگ مشرک تھے اور قیصر روم جو کہ عیسائی تھا دراصل موحد تھا اور مسیح کو ابن اللہ نہیں مانتا تھا اور جب اس کے سامنے مسیح کا وہ ذکر جو قرآن میں درج ہے پیش کیا گیا تو اس نے کہا کہ میرے نزدیک مسیح کا درجہ اس سے ذرہ بھی زیادہ نہیں جو قرآن نے بتلایا ہے۔حدیث میں بھی اس کی گواہی بخاری میں موجود ہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ وہی کلام ہے جو کہ توریت میں ہے اور اس کی حیثیت نبوت سے بڑھ کر نہیں ہے۔ا اللہ اسی پر یہ آیت نازل ہوئی کہ الخ - غُلِبَتِ الرُّومُ - فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ۔فى اضْعَ سِنِينَ * لِلهِ الْأَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَ مِنْ بَعْدُ وَيَوْمَيذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ۔یعنی روم اب مغلوب۔ہو گیا ہے مگر تھوڑے عرصہ میں 4 سال میں ) پھر غالب ہوگا۔عیسائی لوگ نہایت شرارت سے کہتے ہیں کہ آنحضرت نے دونوں طاقتوں کا اندازہ کر لیا تھا اور پھر فراست سے یہ پیشگوئی کر دی تھی۔ہم کہتے ہیں کہ اسی طرح مسیح بھی بیماروں کو دیکھ کر اندازہ کر لیا کرتا تھا جو اچھے ہونے کے قابل نظر آتے تھے ان کا سلب امراض کر دیتا۔اس طرح تو سارے معجزات ان کے ہاتھ سے جاتے ہیں۔يَوْمَبِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ۔اس دن مومنوں کو دو خوشیاں ہوں گی ایک تو جنگ بدر کی فتح، دوسری روم والی پیشگوئی کے پورا ہونے کی۔(البدر جلد نمبر ۲ مورخہ ۷ /نومبر ۱۹۰۲ ء صفحہ ۱۴) یہ بات ہر ایک وسیع المعلومات شخص پر ظاہر ہے کہ اپنے مکاشفات کے متعلق اکثر نبیوں سے بھی اجتہادی غلطیاں ہوئی ہیں اور ان کے شاگردوں سے بھی۔جیسا کہ حضرت ابوبکر نے بِضْع کے لفظ کو جو آیت سَيَغْلِبُونَ في بضع سنين میں داخل ہے تین برس میں محدود سمجھ لیا تھا اور یہ غلطی تھی جس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو متنبہ کیا۔( مکتوبات احمد جلد دوم صفحہ ۷۷) قرآن کریم کی پیشگوئیوں کے تذکرہ پر فرمایا کہ الله - غُلِبَتِ الرُّومُ۔میں کیسی عظیم الشان پیشگوئی ہے۔ایرانی مشرک تھے اور رومن عیسائی تھے مگر قیصر روم نے جس کا نام ہر قل ہے جیسا کہ بخاری میں درج ہے اسلام کی عظمت کا اعتراف کیا تھا اور وہ اس طرح پر موحد ہی تھا۔غرض جب ایرانیوں نے رومیوں پر فتح پائی تو کفار مکہ نے یہ سمجھ لیا کہ ہم بھی غالب ہوں گے اور مسلمان مغلوب ہو جائیں گے لیکن خدا تعالیٰ نے اس پیشگوئی میں ان کو بتادیا کہ ایرانی پھر مغلوب ہو جائیں گے بعض نے اس پیشگوئی کو انکل کہا مگر انہیں یہ معلوم