تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 292
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹۲ سورة الروم فارسیوں کی فتح اپنے لئے ایک نیک فال سبھی تھی اور اس سے یہ سمجھا تھا کہ چونکہ فارسی سلطنت مخلوق پرستی میں ہمارے شریک ہے ایسا ہی ہم بھی اس نبی کا استیصال کریں گے جس کی شریعت اہل کتاب سے مشابہت رکھتی ہے تب خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں یہ پیشگوئی نازل فرمائی کہ آخر کار رومی سلطنت کی فتح ہوگی اور چونکہ روم کی فتح کی نسبت یہ پیشگوئی ہے اس لئے اس سورت کا نام سورۃ الروم رکھا گیا ہے اور چونکہ عرب کے مشرکوں نے مجوسیوں کی سلطنت کی فتح کو اپنی فتح کے لئے ایک نشان سمجھ لیا تھا اس لئے خدا تعالیٰ نے اس پیشگوئی میں یہ بھی فرما دیا کہ جس روز پھر روم کی فتح ہوگی اس روز مسلمان بھی مشرکوں پر فتحیاب ہوں گے چنانچہ ایسا ہی ظہور میں آیا۔اس بارہ میں قرآن شریف کی آیت یہ ہے الم - غُلِبَتِ الرُّوْمُ - فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ فِي بِضْعَ سِنِينَ لِلَّهِ الْأَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ بَعْدُ وَيَوْمَيذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ۔( ترجمہ ) میں خدا ہوں جو سب سے بہتر جانتا ہوں۔رومی سلطنت بہت قریب، زمین میں مغلوب ہوگئی ہے اور وہ لوگ پھر نو سال تک تین سال کے بعد مجوسی سلطنت پر غالب ہو جائیں گے اُس دن مومنوں کے لئے بھی ایک خوشی کا دن ہو گا چنانچہ ایسا ہی ہوا۔اور تین سال کے بعد نو ۹ سال کے اندر پھر رُومی سلطنت ایرانی سلطنت پر غالب آگئی اور اسی دن مسلمانوں نے بھی مشرکوں پر فتح پائی کیونکہ وہ دن بدر کی لڑائی کا دن تھا جس میں اہل اسلام کو فتح ہوئی تھی۔(چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۳۲۰) لِلَّهِ الْأَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِن بَعْدُ۔۔۔۔۔پہلے بھی خدا کا حکم ہے اور پیچھے بھی خدا کا ہی حکم ہے۔(براہین احمد یه چهار حصص ، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۶۱۶ حاشیه در حاشیه نمبر (۳) یہ میں اللہ بہت جاننے والا ہوں۔رومی اپنی سرحد میں اہل فارس سے مغلوب ہو گئے ہیں اور بہت ہی جلد چند سال میں یقیناً غالب ہونے والے ہیں۔پہلے اور آئندہ آنے والے واقعات کا علم اور ان کے اسباب اللہ ہی کے ہاتھ میں ہیں جس دن رومی غالب ہوں گے وہی دن ہو گا جب مومن بھی خوشی کریں گے۔اب غور کر کے دیکھو کہ یہ کیسی حیرت انگیز اور جلیل القدر پیشگوئی ہے۔ایسے وقت میں یہ پیشگوئی کی گئی جب مسلمانوں کی کمزور اور ضعیف حالت خود خطرہ میں تھی۔نہ کوئی سامان تھا نہ طاقت تھی۔ایسی حالت میں مخالف کہتے تھے کہ یہ گروہ بہت جلد نیست و نابود ہو جائے گا۔مدت کی قید بھی اس میں لگا دی اور پھر یومین يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ کہہ کر کر دو ہری پیشگوئی بنادی یعنی جس روز رومی فارسیوں پر غالب آئیں گے اس دن مسلمان بھی بامراد ہو کر خوش ہوں گے چنانچہ جس طرح یہ پیشگوئی کی تھی اسی طرح بدر کے روز پوری ہوگئی۔