تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 274
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۷۴ سورة العنكبوت (۱) وہ نشان جو عذاب کی صورت میں فقط اپنے اقتراح سے کفار مکہ نے طلب کئے تھے۔ (۲) دوسرے وہ نشان جو عذاب کی صورت میں یا مقدمہ عذاب کی صورت میں پہلی اُمتوں پر وارد کئے گئے تھے۔ (۳) تیسرے وہ نشان جس سے پردہ غیبی بکلی اُٹھ جائے ، جس کا اُٹھ جانا ایمان بالغیب کے بکلی برخلاف ہے۔ سو عذاب کے نشان ظاہر ہونے کے لئے جو سوال کئے گئے ہیں ان کا جواب تو قرآن شریف میں یہی دیا گیا ہے کہ تم منتظر رہو ، عذاب نازل ہوگا ۔ ہاں ایسی صورت کا عذاب نازل کرنے سے انکار کیا گیا ہے جس کی پہلے تکذیب ہو چکی ہے تاہم عذاب نازل ہونے کا وعدہ دیا گیا ہے جو آخر غزوات کے ذریعہ سے پورا ہو گیا۔ لیکن تیسری قسم کا نشان دکھلانے سے بکلی انکار کیا گیا ہے اور خود ظاہر ہے کہ ایسے سوال کا جواب انکار ہی تھا نہ اور کچھ۔ کیونکہ کفار کہتے تھے کہ تب ہم ایمان لائیں گے کہ جب ہم ایسا نشان دیکھیں کہ زمین سے آسمان تک نردبان رکھی جائے اور تو ہمارے دیکھتے دیکھتے اس نردبان کے ذریعہ سے زمین سے آسمان پر چڑھ جائے اور فقط تیرا آسمان پر چڑھنا ہم ہر گز قبول نہیں کریں گے جب تک آسمان سے ایک ایسی کتاب نہ لاوے جس کو ہم پڑھ لیں اور پڑھیں بھی اپنے ہاتھ میں لے کر ۔ یا تو ایسا کر کہ مکہ کی زمین میں جو ہمیشہ پانی کی تکلیف رہتی ہے۔ شام اور عراق کے ملک کی طرح نہریں جاری ہو جائیں اور جس قدر ابتدا د نیا سے آج تک ہمارے بزرگ مر چکے ہیں ، سب زندہ ہو کر آ جائیں اور اس میں قصی بن کلاب بھی ہو کیونکہ وہ بڑھا ہمیشہ سچ بولتا تھا۔ اس سے ہم پوچھیں گے کہ تیرا دعویٰ حق ہے یا باطل؟ یہ سخت سخت خود تراشیدہ نشان تھے جو وہ مانگتے تھے اور پھر بھی نہ صاف طور پر بلکہ شرط پر شرط لگانے سے جن کا ذکر قرآن شریف میں جا بجا آیا ہے۔ پس سوچنے والے کے لئے عرب کے شریروں کی ایسی درخواستیں ہمارے سید و مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات ظاهره و آیات بینه و رسولا نہ ہیئت پر صاف اور کھلی کھلی دلیل ہے۔ خدا جانے ان دل کے اندھوں کو ہمارے مولی و آقا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے انوار صداقت نے کس درجہ تک عاجز و تنگ کر رکھا تھا اور کیا کچھ آسمانی تائیدات و برکات کی بارشیں ہو رہی تھیں کہ جن سے خیرہ ہو کر اور جن کی ہیئت سے منہ پھیر کر سراسر ٹالنے اور بھاگنے کی غرض سے ایسی دور از صواب درخواستیں پیش کرتے تھے۔ ظاہر ہے کہ اس قسم کے معجزات کا دکھلانا ایمان بالغیب کی حد سے باہر ہے۔ یوں تو اللہ جلشانہ قادر ہے کہ زمین سے آسمان تک زینہ رکھ دیوے۔ جس کو سب لوگ دیکھ لیویں اور دو چار ہزار کیا دو چار کروڑ آدمیوں کو زندہ کر کے ان کے منہ سے