تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 273
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۷۳ سورة العنكبوت کہتے تھے اور پھر اس کے بعد انہیں نشانوں کو معجزہ کر کے مان بھی لیا اور جزیرہ کا جزیرہ مسلمان ہو کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاک معجزات کا ہمیشہ کے لئے کچے دل سے گواہ بن گیا تو پھر ایسے لوگوں سے کیوں کر ممکن ہے کہ وہ عام طور پر نشانوں سے صاف منکر ہو جاتے اور انکار معجزات میں ایسالا نافیہ استعمال کرتے جو اُن کی حد حوصلہ سے باہر اور ان کی مستمر رائے سے بعید تھا بلکہ قرائن سے آفتاب کی طرح ظاہر ہے کہ جس جس جگہ پر قرآن شریف میں کفار کی طرف سے یہ اعتراض لکھا گیا ہے کہ کیوں اس پیغمبر پر کوئی نشانی نہیں اُتری ؟ ساتھ ہی یہ بھی بتلا دیا گیا ہے کہ اُن کا مطلب یہ ہے کہ جو نشانیاں ہم مانگتے ہیں۔اُن میں سے کوئی نشانی کیوں نہیں اُترتی۔اب قصہ کو تاہ یہ کہ آپ نے آیت متذکرہ بالا کے لا نافیہ کوقرائن کی حد سے زیادہ کھینچ دیا ہے ایسالا نافیہ عربوں کے کبھی خواب میں بھی نہیں آیا ہوگا۔ان کے دل تو اسلام کی حقیت سے بھرے ہوئے تھے۔تب ہی تو سب کے سب بجر معدودے چند کہ جو اس عذاب کو پہنچ گئے تھے جس کا اُن کو وعدہ دیا گیا تھا بالآخر مشرف بالا سلام ہو گئے تھے اور یادر ہے کہ ایسالا نافیہ حضرت مسیح کے کلام میں بھی پایا جاتا ہے اور وہ یہ ہے۔فریسیوں نے مسیح کے نشانات طلب کئے اُس نے آہ کھینچ کر کہا کہ اس زمانہ کے لوگ کیوں نشان چاہتے ہیں میں تم سے سچ کہتا ہوں اس زمانہ کے لوگوں کو کوئی نشان نہیں دیا جائے گا۔دیکھو مرقس ۸ باب ۱۱۔اب دیکھو کیسا حضرت مسیح نے صفائی سے انکار کر دیا ہے اگر غور فرمائیں تو آپ کا اعتراض اس اعتراض کے آگے کچھ بھی چیز نہیں کیونکہ آپ نے فقط کفار کا انکار پیش کیا اور وہ بھی نہ عام انکار بلکہ خاص نشانات کے بارے میں اور ظاہر ہے کہ دشمن کا انکار بھی قابل اطمینان نہیں ہوتا کیونکہ دشمن خلاف واقعہ بھی کہہ جاتا ہے مگر حضرت مسیح تو آپ اپنے منہ سے معجزات کے دکھلانے سے انکار کر رہے ہیں اور نفی صدور معجزات کو زمانہ کے ساتھ متعلق کر دیا ہے اور فرماتے ہیں کہ اس زمانے کے لوگوں کو کوئی نشان دیا نہ جائے گا پس اس سے بڑھ کر انکار معجزات کے بارے میں اور کون سا بیان واضح ہو سکتا ہے اور اس لا نافیہ سے بڑھ کر پھر اور کون سالا نافیہ (ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۴۲۸ تا ۴۳۵) واضح ہو کہ قرآن شریف میں نشان مانگنے کے سوالات کفار کی طرف سے صرف ایک دو جگہ نہیں بلکہ کئی مقامات میں یہی سوال کیا گیا ہے اور ان سب مقامات کو بنظر یکجائی دیکھنے سے ثابت ہوتا ہے کہ کفار مکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تین قسم کے نشانات مانگا کرتے تھے۔ہوگا۔