تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 275 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 275

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۷۵ سورة العنكبوت اُن کی اولاد کے سامنے صدق نبوت کی گواہی دلا دیوے۔یہ سب کچھ وہ کر سکتا ہے مگر ذرا سوچ کر دیکھو کہ اس انکشاف تام سے ایمان بالغیب جو مدار ثواب اور اجر ہے دور ہو جاتا ہے اور دنیا نمونہ محشر ہو جاتی ہے۔پس جس طرح قیامت کے میدان میں جو انکشاف تام کا وقت ہوگا ایمان کام نہیں آتا۔اسی طرح اس انکشاف تام سے بھی ایمان لانا کچھ مفید نہیں بلکہ ایمان اسی حد تک ایمان کہلاتا ہے کہ جب کچھ اخفا بھی باقی رہے جب سارے پر دے کھل گئے تو پھر ایمان ایمان نہیں رہتا اسی وجہ سے سارے نبی ایمان بالغیب کی رعایت سے معجزے دکھلاتے رہے ہیں کبھی کسی نبی نے ایسا نہیں کیا کہ ایک شہر کا شہر زندہ کر کے ان سے اپنی نبوت کی گواہی دلاوے یا آسمان تک نردبان رکھ کر اور سب کے رو برو چڑھ کر تمام دنیا کو تماشا دکھلاوے۔ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات صفحہ ۴۳۳ تا ۴۳۴ حاشیہ ) دیکھو! کسی خاص شخص کی پرواہ نہ خدا کو منظور ہوا کرتی ہے اور نہ ہی اس کے رسول کسی خاص شخص کی ہدایت کے لئے زور دیا کرتے ہیں بلکہ ان کی دعائیں اور اضطراب عام خلق خدا کے واسطے ہوتے ہیں دیکھو رسول اکرم سے بھی معجزات مانگے گئے تھے مگر اللہ تعالیٰ نے کیا جواب دیا وَقَالُوا لَوْ لَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ أَيْتُ مِّنْ رَّبِّهِ قُلْ إِنَّمَا الْأَيْتُ عِنْدَ اللہ اللہ تعالیٰ نے اقتراح کو منع کیا ہے اور تجربہ بتاتا ہے کہ اقتراح کرنے والے لوگ ہمیشہ ہدایت سے محروم ہی رہتے ہیں کیونکہ خدا نہ ان کی مرضی اور خواہشات کا تابع ہوتا ہے اور نہ وہ ہدایت پاتے ہیں۔دیکھ لو جب نشانات اور منجزات اقتراحی رنگ میں طلب کئے گئے جب ہی یہی جواب ملا قُلْ سُبْحَانَ رَبّى هَلْ كُنْتُ إِلا بَشَرًا رَسُولًا (بنی اسرائیل : ۹۴) - ط الحکم جلد ۱۲ نمبر ۲۴ مورخه ۱/۲ پریل ۱۹۰۸ صفحه ۳) قُلْ إِنَّمَا الْأَيْتُ عِنْدَ اللہ یعنی ان کو کہ دو کہ نشان اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں جس نشان کو چاہتا ہے اسی نشان کو ظاہر کرتا ہے بندہ کا اس پر زور نہیں ہے کہ جبر کے ساتھ اس سے ایک نشان لیوے یہ جبر اور اقتدار تو آپ ہی کی کتابوں میں پایا جاتا ہے بقول آپ کے مسیح اقتداری معجزات دکھلاتا تھا اور اس نے شاگردوں کو بھی اقتدار بخشا اور آپ کا یہ عقیدہ ہے کہ اب بھی حضرت مسیح زندہ جی قیوم، قادر مطلق ، عالم الغیب دن رات آپ کے ساتھ ہے جو چاہو وہی دے سکتا ہے پس آپ حضرت مسیح سے درخواست کریں کہ ان تینوں بیماروں کو آپ کے ہاتھ رکھنے سے اچھا کر دیویں تا نشانی ایمان داری کی آپ میں باقی رہ جاوے ورنہ یہ تو مناسب نہیں کہ ایک طرف اہل حق کے ساتھ بحیثیت کے عیسائی ہونے کے مباحثہ کریں اور جب بچے عیسائی کے