تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 266 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 266

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۶۶ سورة العنكبوت اس آیت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ذکر الہی کے ترک اور اس سے غفلت کا نام کفر ہے۔پس جو دم غافل وہ دم کا فروالی بات صاف ہے۔پانچ وقت تو خدا تعالیٰ نے بطور نمونہ کے مقرر فرمائے ہیں ورنہ خدا کی یاد میں تو ہر وقت دل کو لگا رہنا ا ہے اور کبھی کسی وقت بھی غافل نہ ہونا چاہیے۔اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے ہر وقت اسی کی یاد میں غرق ہونا بھی ایک ایسی صفت ہے کہ انسان اس سے انسان کہلانے کا مستحق ہو سکتا ہے اور خدا تعالیٰ پر کسی طرح کی امید اور بھروسہ کرنے کا حق رکھ سکتا ہے۔اصل میں قاعدہ ہے کہ اگر انسان نے کسی خاص منزل پر پہنچنا ہے اس کے واسطے چلنے کی ضرورت ہوتی ہے۔جتنی لہی وہ منزل ہوگی اتنا ہی زیادہ تیزی، کوشش اور محنت اور دیر تک اسے چلنا ہوگا۔سوخدا تک پہنچنا بھی تو ایک منزل ہے اور اس کا بعد اور دوری بھی لبی۔پس جو شخص خدا سے ملنا چاہتا ہے اور اس کے دربار میں پہنچنے کی خواہش رکھتا ہے اس کے واسطے نماز ایک گاڑی ہے جس پر سوار ہو کر وہ جلد تر پہنچ سکتا ہے اور جس نے نماز ترک کر دی وہ کیا پہنچے گا۔اصل میں مسلمانوں نے جب سے نماز کو ترک کیا یا اسے دل کی تسکین ، آرام اور محبت سے اس کی حقیقت سے غافل ہو کر پڑھنا ترک کیا ہے تب ہی سے اسلام کی حالت بھی معرض زوال میں آئی ہے۔وہ زمانہ جس میں نمازیں سنوار کر پڑھی جاتی تھیں غور سے دیکھ لو کہ اسلام کے واسطے کیسا تھا۔ایک دفعہ تو اسلام نے تمام دنیا کو زیر پا کر دیا تھا۔جب سے اسے ترک کیا وہ خود متروک ہو گئے ہیں۔درد دل سے پڑھی ہوئی نماز ہی ہے کہ تمام مشکلات سے انسان کو نکال لیتی ہے۔ہمارا بارہا کا تجربہ ہے کہ اکثر کسی مشکل کے وقت دعا کی جاتی ہے ابھی نماز میں ہی ہوتے ہیں کہ خدا نے اس امر کوحل اور آسان کر دیا ہوا ہوتا ہے۔نماز میں کیا ہوتا ہے یہی کہ عرض کرتا ہے ، التجا کے ہاتھ بڑھاتا ہے اور دوسرا اس کی عرض کو اچھی طرح سنتا ہے۔پھر ایک ایسا وقت بھی ہوتا ہے کہ جو سنتا تھا وہ بولتا ہے اور گذارش کرنے والے کو جواب دیتا ہے۔نمازی کا یہی حال ہے۔خدا کے آگے سر بسجو د رہتا ہے اور خدا کو اپنے مصائب اور حوائج سناتا ہے۔پھر آخر سچی اور حقیقی نماز کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ ایک وقت جلد آ جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ اس کے جواب کے واسطے بولتا اور اس کو جواب دے کر تسلی دیتا ہے۔بھلا یہ بجر حقیقی نماز کے ممکن ہے۔ہر گز نہیں اور پھر جن کا خدا ہی ایسا نہیں وہ بھی گئے گزرے ہیں۔ان کا کیا دین اور کیا ایمان ہے۔وہ کس امید پر اپنے اوقات ضائع کرتے ہیں۔الحکم جلدے نمبر ۱۲ مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۳ صفحه ۸،۷) نم