تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 267 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 267

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۶۷ سورة العنكبوت نماز کیا ہے؟ ایک قسم کی دعا ہے جو انسان کو تمام برائیوں اور فواحش سے محفوظ رکھ کر حسنات کا مستحق اور انعام الہیہ کا مورد بنادیتی ہے۔کہا گیا ہے کہ اللہ اسم اعظم ہے۔اللہ تعالیٰ نے تمام صفات کو اس کے تابع رکھا ہے اب ذرا غور کرو نماز کی ابتداء اذاں سے شروع ہوتی ہے اذاں اللہ اکبر سے شروع ہوتی ہے یعنی اللہ کے نام سے شروع ہو کر لا اله الا اللہ یعنی اللہ ہی پر ختم ہوتی ہے یہ فخر اسلامی عبادت ہی کو ہے کہ اس میں اول اور آخر میں اللہ تعالیٰ ہی مقصود ہے نہ کچھ اور۔میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ اس قسم کی عبادت کسی قوم اور ملت میں نہیں ہے۔پس نماز جو دعا ہے اور جس میں اللہ کو جو خدائے تعالیٰ کا اسم اعظم ہے مقدم رکھا ہے۔ایسا ہی انسان کا اسم اعظم استقامت ہے۔اسم اعظم سے مراد یہ ہے کہ جس ذریعہ سے انسانیت کے کمالات حاصل ہوں۔( منقول از ٹریکٹ نمبر ” حضرت اقدس کی ایک تقریر اور مسئلہ وحدۃ الوجود پر ایک خط مرتبہ شیخ یعقوب علی صاحب صفحہ ۱۸) نماز ایسی چیز ہے کہ اس سے دنیا بھی سنور جاتی ہے اور دین بھی۔۔۔۔نماز تو وہ چیز ہے کہ انسان اس کے پڑھنے سے ہر ایک طرح کی بدعملی اور بے حیائی سے بچایا جاتا ہے مگر جیسا کہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں اس طرح کی نماز پڑھنی انسان کے اپنے اختیار میں نہیں ہوتی اور یہ طریق خدا کی مدد اور استعانت کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا اور جب تک انسان دعاؤں میں نہ لگار ہے اس طرح کا خشوع اور خضوع پیدا نہیں ہو سکتا اس لئے چاہیے کہ تمہارا دن اور تمہاری رات غرض کوئی گھڑی دعاؤں سے خالی نہ ہو۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳ مورخه ۱۰/جنوری۱۹۰۸ صفحه ۴) وَلَا تُجَادِلُوا أَهْلَ الْكِتَبِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِلَّا الَّذِينَ ظَلَبُوا مِنْهُمْ وَقُولُوا امَنَّا بِالَّذِى أُنْزِلَ إِلَيْنَا وَ انْزِلَ إِلَيْكُمْ وَالْهُنَا وَ الْهُكُمْ وَاحِدٌ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ۔اس مسئلہ میں کسی سمجھدار مسلمان کو اختلاف نہیں کہ دینی حمایت کے لئے ہمیں کسی جوش یا اشتعال کی تعلیم نہیں دی گئی بلکہ ہمارے لئے قرآن میں یہ حکم ہے وَ لَا تُجَادِلُوا أَهْلَ الْكِتَبِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ اور دوسری جگہ یہ حکم ہے کہ اُدعُ إِلى سَبِيلِ رَبَّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ احْسَنُ (النحل : ۱۲۶) اس کے معنے یہی ہیں کہ نیک طور پر اور ایسے طور پر جو مفید ہو عیسائیوں سے مجادلہ کرنا چاہیے اور حکیمانہ طریق اور ایسے ناصحانہ طور کا پابند ہونا چاہیے کہ ان کو فائدہ بخشے۔( مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحه ۲۱۷)