تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 212
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۱۲ سورة الشعراء جب ایک شخص کہے کہ میں یہ تقریر ایسی زبان میں کرتا ہوں کہ تم اس کی نظیر پیش کرو تو بجز اس کے کیا سمجھا جائے گا کہ وہ کمال بلاغت کا مدعی ہے اور مبین کا لفظ بھی اسی کو چاہتا ہے۔جنگ مقدس ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۹۱) اور یہ کتاب عربی فصیح بلیغ میں ہے۔(کرامات الصادقین ، روحانی خزائن جلد ۷ صفحه ۵۹) وَ انْذِرُ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ (۲۱۵) ہر وقت انسان کو فکر کرنی چاہیے کہ جس طرح ممکن ہو عورتوں اور مردوں کو اس امیر الہی سے اطلاع کر دیوے۔حدیث میں آیا ہے کہ اپنے قبیلہ کا شیخ اسی طرح سوال کیا جائے گا جیسے کسی قوم کا نہیں۔غرض جو موقع مل سکے اسے کھونا نہیں چاہیے۔زندگی کا کچھ اعتبار نہیں ہوتا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب وَ انْذِرُ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ کا حکم ہوا تو آپ نے نام بنام سب کو خدا کا پیغام پہنچادیا۔ایسا ہی میں نے بھی کئی مرتبہ عورتوں اور مردوں کو مختلف موقعوں پر تبلیغ کی ہے اور اب بھی کبھی گھر میں وعظ سنایا کرتا ہوں۔الحکم جلد ۵ نمبر ۴۴ مورخه ۳۰/نومبر ۱۹۰۱ صفحه ۱) وَ تَوَكَّلْ عَلَى الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ ) الَّذِى يَرْبكَ حِينَ تَقُومُ وَ تَقَلُّبَكَ فِي لا السجدين (٢٢٠) خدا پر توکل کر جو غالب اور رحم کرنے والا ہے۔وہی خدا جو تجھے دیکھتا ہے جب تو دعا اور دعوت کے لئے کھڑا ہوتا ہے۔وہی خدا جو تجھے اس وقت دیکھتا تھا کہ جب تو تخم کے طور پر راست بازوں کی پشتوں میں چلا آتا تھا۔یہاں تک کہ اپنی بزرگ والدہ آمنہ معصومہ کے پیٹ میں پڑا۔( تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۲۸۱) هَلْ أَنَنتُكُمْ عَلَى مَنْ تَنَزَّلُ الشَّيْطِيْنُ تَنَزَّلُ عَلَى كُلِّ أَفَاكٍ أَثِيمٍ واضح ہو کہ شیطانی الہامات ہونا حق ہے اور بعض نا تمام سالک لوگوں کو ہوا کرتے ہیں اور حدیث النفس بھی ہوتی ہے جس کو اضغاث احلام کہتے ہیں اور جو شخص اس سے انکار کرے وہ قرآن شریف کی مخالفت کرتا