تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 211
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٢١١ سورة الشعراء تجلی رحم یا تجلی قہر کا حسب حالت اپنے کامل طور پر مشاہد ہو کر اور جنت عظمی کو بہت قریب پاکر یا جہنم کبری کو بہت ہی قریب دیکھ کر وہ لذات یا عقوبات ترقی پذیر ہو جاتے ہیں جیسا کہ اللہ جل شانہ آپ فرماتا ہے وَازْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِينَ وَ بُرْزَتِ الْجَحِيمُ لِلْغَرِينَ وُجُوهٌ يَوْمَةٍ مُّسْفِرَةٌ ضَاحِكَةٌ مُسْتَبْشِرَةٌ وَ وُجُوهُ - يَوْمَةٍ عَلَيْهَا غَبَرَةٌ تَرْهَقُهَا قَتَرَةٌ أُولَبِكَ هُمُ الْكَفَرَةُ الْفَجَرَةُ ( عبس : ۳۹ تا ۴۳)۔اس دوسرے درجہ میں بھی لوگ مساوی نہیں ہوتے بلکہ اعلیٰ درجہ کے بھی ہوتے ہیں جو بہشتی ہونے کی حالت میں بہشتی انوار اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔۔۔۔ایسا ہی دوزخی ہونے کی حالت میں اعلیٰ درجہ کے کفار ہوتے ہیں کہ قبل اس کے جو کامل طور پر دوزخ میں پڑیں ان کے دلوں پر دوزخ کی آگ بھڑکائی جاتی ہے۔وَإِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُم جَبَّارِينَ ) (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۸۴) راقم اس رسالہ نے ایک درویش کو دیکھا کہ وہ سخت گرمی کے موسم میں یہ آیت قرآنی پڑھ کر وَاذَا بطَشْتُم بَطَشْتُمْ جَبَّارِین زنبور کو پکڑ لیتا تھا اور اس کی نیش زنی سے نکلی محفوظ رہتا تھا اور خود اس راقم کے تجربہ میں بعض تاثیرات عجیبہ آیت قرآنی کی آچکی ہیں جن سے عجائبات قدرت حضرت باری جل شانہ معلوم سرمه چشم آریہ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه (۱۰۰) ہوتے ہیں۔وَلا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءَ هُمْ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ اور کسی طور سے لوگوں کو ان کے مال کا نقصان نہ پہنچاؤ اور فساد کی نیت سے زمین پر مت پھرا کرو۔یعنی اس نیت سے کہ چوری کریں یا ڈا کہ ماریں یا کسی کی جیب کتریں یا کسی اور ناجائز طریق سے بیگانہ مال پر قبضہ کریں۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۴۷) بِلِسَانٍ عَرَبِيَّ مُّبِينٍ (١٩٦ فصاحت اور بلاغت کے بارہ میں فرمایا بلسان عربي مبين اور پھر اس کی نظیر مانگی اور کہا کہ اگر تم کچھ کر سکتے ہو اس کی نظیر دو۔پس عربی مبین کے لفظ سے فصاحت بلاغت کے سوا اور کیا معنے ہو سکتے ہیں۔خاص کر