تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 209 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 209

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۰۹ سورة الشعراء شبہ نہیں ہو سکتا کہ یہ عظیم الشان معجزہ تھا جو ایسے وقت پر اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے راہ پیدا کر دی اور یہی متقی کے ساتھ ہوتا ہے کہ ہر ضیق سے اسے نجات اور راہ ملتی ہے۔الحکم جلدے نمبر ۱۱ مورخہ ۲۴ / مارچ ۱۹۰۳ ء صفحه ۱) ان معيَ رَبِّي سَيَهْدِین میرے ساتھ میرا رب ہے عنقریب وہ میرا راہ کھول دے گا۔اِنَّ (براہین احمدیہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۶۱۲، ۶۱۳ حاشیه ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اِنَّ اللهَ مَعَنا۔اس معیت میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی ہیں اور گو یا کل جماعت آپ کی آگئی۔موسیٰ علیہ السلام نے یہ نہیں کہا بلکہ کہا ان معى رتی۔اس میں کیا سر تھا کہ انہوں نے اپنے ہی ساتھ معیت کا اظہار کیا؟ اس میں یہ راز ہے کہ اللہ جامع جمیع شیون کا ہے اور اسم اعظم ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی جماعت کے ساتھ اسم اعظم کی معیت مع تمام صفات کے پائی جاتی ہے لیکن موسیٰ علیہ السلام کی قوم شریر اور فاسق فاجر تھی۔آئے دن لڑنے اور پتھر مارنے کو تیار ہو جاتی تھی اس لئے ان کی طرف معیت کو منسوب نہیں کیا بلکہ اپنی ذات تک اسے رکھا۔اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور علو مدارج کا اظہار مقصود ہے۔تحقیق میرا رب میرے ساتھ ہے وہ مجھے راہ بتلائے گا۔الحکم جلدے نمبر ۲ مورخہ ۱۷/جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۷) (برائین احمد یه چهار تصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۶۶۳ حاشیه در حاشیه نمبر ۴) یہ میرے ساتھ میرا خدا ہے وہ مخلصی کی کوئی راہ دکھا دے گا۔یہ قرآن شریف میں حضرت موسی کے قصہ میں ہے جبکہ فرعون نے ان کا تعاقب کیا تھا اور بنی اسرائیل نے سمجھا تھا کہ اب ہم پکڑے گئے۔وَاِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ ) براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۹۸) اصل میں انسان جوں جوں اپنے ایمان کو کامل کرتا ہے اور یقین میں پکا ہوتا جاتا ہے توں توں اللہ تعالیٰ اس کے واسطے خود علاج کرتا ہے اس کو ضرورت نہیں رہتی کہ دوائیں تلاش کرتا پھرے وہ خدا کی دوائیں کھاتا ہے اور خدا خود اس کا علاج کرتا ہے۔بھلا کوئی دعوے سے کہہ سکتا ہے کہ فلاں دوا سے فلاں مریض ضرور ہی شفا پا جاوے گا ہرگز نہیں بلکہ بعض اوقات دیکھا جاتا ہے کہ دوا الٹا ہلاکت کا موجب ہو جاتی ہے۔اور ان