تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 210 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 210

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۱۰ سورة الشعراء علاجوں میں سود ہندے ہوتے ہیں بعض وقت تشخیص میں غلطی ہوتی ہے بعض وقت دواؤں کے اجزاء میں غلطی ہو جاتی ہے۔غرض حتمی علاج نہیں ہو سکتا۔ہاں خدا تعالیٰ جو علاج فرماتا ہے وہ حتمی علاج ہوتا ہے اس سے نقصان نہیں ہوتا مگر ذرا یہ بات مشکل ہے کامل ایمان کو چاہتی ہے اور یقین کے پہاڑ سے پیدا ہوتی ہے۔ایسے لوگوں کا اللہ تعالیٰ خود معالج ہوتا ہے۔مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ دانت میں سخت دردتھا میں نے کسی سے دریافت کیا کہ اس کا کیا علاج ہے۔اس نے کہا کہ موٹا علاج مشہور ہے علاج دنداں اخراج دنداں۔اس کا یہ فقرہ میرے دل پر بہت گراں گزرا کیونکہ دانت بھی ایک نعمت الہی ہے اسے نکال دینا ایک نعمت سے محروم ہونا ہے۔اس فکر میں تھا کہ غنودگی آئی تو زبان پر جاری ہواو اذا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ اس کے ساتھ ہی معاً (البدر جلد نمبر ۵، ۶ مورخه ۲۸ /نومبر و ۵ دسمبر ۱۹۰۲ ء صفحه ۳۸) در دھہر گیا اور پھر نہیں ہوا۔وَالَّذِي يُمِيتُنِي ثُمَّ يُحْيِينِ و (۸۲) وہ خدا جو مجھے مارتا ہے اور پھر زندہ کرتا ہے۔اس موت اور حیات سے مراد صرف جسمانی موت اور حیات نہیں بلکہ اس موت اور حیات کی طرف اشارہ ہے جو سالک کو اپنے مقامات و منازل سلوک میں پیش آتی ہے چنانچہ وہ خلق کی محبت ذاتی سے مارا جاتا ہے اور خالق حقیقی کی محبت ذاتی کے ساتھ زندہ کیا جاتا ہے اور پھر اپنے رفقاء کی محبت ذاتی سے مارا جاتا ہے اور رفیق اعلیٰ کی محبت ذاتی کے ساتھ زندہ کیا جاتا ہے اور پھر اپنے نفس کی محبت ذاتی سے مارا جاتا ہے اور محبوب حقیقی کی محبت ذاتی کے ساتھ زندہ کیا جاتا ہے۔اسی طرح کئی موتیں اس پر وارد ہوتی رہتی ہیں اور کئی حیاتیں۔یہاں تک کہ کامل حیات کے مرتبہ تک پہنچ جاتا ہے سودہ کامل حیات جو اس سفلی دنیا کے چھوڑنے کے بعد ملتی ہے وہ جسم خاکی کی حیات نہیں بلکہ اور رنگ اور شان کی (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۳۲) حیات ہے۔لا وَاخْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِينَ وَبُرِزَتِ الْجَحِيمُ لِلْغَوِينَ اس درجہ سے او پر جو ابھی ہم نے بہشتیوں اور دوزخیوں کے لئے بیان کیا ہے ایک اور درجہ دخول جنت دخول جہنم ہے جس کو درمیانی درجہ کہنا چاہیے اور وہ حشر اجساد کے بعد اور جنت عظمی یا جہنم کبری میں داخل ہونے سے پہلے حاصل ہوتا ہے اور بوجہ تعلق جسد کامل قوئی میں ایک اعلیٰ درجہ کی تیزی پیدا ہو کر اور خدائے تعالیٰ کی