تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 208 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 208

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۰۸ سورة الشعراء وو حالت میں اترا کرتے ہیں جیسے حضرت موسیٰ کو بنی اسرائیل نے کہا تھا اِنَّا لَبُدُركُونَ۔وہ ایسا سخت مشکل کا وقت تھا کہ آگے سے بھی اور پیچھے سے بھی ان کو موت ہی موت نظر آتی تھی۔سامنے سمندر اور پیچھے فرعون کا لشکر۔اس وقت موسی نے جواب دیا " كَلَّا إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهْدِین “۔پس ایسی ضرورتوں اور ابتلاء کے اوقات میں نشان ظاہر ہوا کرتے ہیں جب کہ ایک قسم کی جان کندنی پیش آجاتی ہے۔چونکہ خدا کا نام غیب ہے اس لئے جب نہایت ہی اشد ضرورت آبنتی ہے تو امور غیبیہ ظاہر ہوا کرتے ہیں۔البدر جلد نمبر ۲ مورخه ۷ /نومبر ۱۹۰۲ صفحه ۱۱) حضرت موسیٰ علیہ السلام جب بنی اسرائیل کو فرعون کی غلامی سے نجات دلانے کے لئے آئے تو ان کو پہلے مصر میں فرعون نے یہ کام دیا ہوا تھا کہ وہ آدھے دن اینٹیں پا تھا کریں اور آدھے دن اپنا کام کیا کریں۔لیکن جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان کو نجات دلانے کی کوشش کی تو پھر شریروں کی شرارت سے بنی اسرائیل کا کام بڑھا دیا گیا اور انہیں حکم ملا کہ آدھے دن تو تم اینٹیں پا تھا کرو اور آدھے دن گھاس لایا کرو۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جب یہ حکم ملا اور انہوں نے بنی اسرائیل کو سنایا تو وہ بڑے ناراض ہوئے اور کہا اے موسیٰ خدا تم کو وہ دیکھ دے۔جو ہم کو ملا ہے۔اور بھی انہوں نے موسیٰ علیہ السلام کو بد دعائیں دیں مگر موسیٰ علیہ السلام نے ان کو یہی کہا کہ تم صبر کرو۔تورات میں یہ سارا قصہ لکھا ہے کہ جوں جوں موسی انہیں تسلی دیتے تھے وہ اور بھی افروختہ ہوتے تھے۔آخر یہ ہوا کہ مصر سے بھاگ نکلنے کی تجویز کی گئی اور مصر والوں کے کپڑے اور برتن وغیرہ جو لئے تھے وہ ساتھ ہی لے آئے۔جب حضرت موسیٰ قوم کو لے کر نکل آئے تو فرعون نے اپنے لشکر کو لے کر ان کا تعاقب کیا۔بنی اسرائیل نے جب دیکھا کہ فرعونیوں کا لشکر ان کے قریب ہے تو وہ بڑے ہی مضطرب ہوئے۔چنانچہ قرآن شریف میں لکھا ہے کہ اس وقت وہ چلائے اور کہا انا لمدركون اے موسیٰ ہم تو پکڑے گئے مگر موسیٰ نے جو نبوت کی آنکھ سے انجام کو دیکھتے تھے انہیں یہی جواب دیا لا إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهْدِينِ ہر گز نہیں۔میرا رب میرے ساتھ ہے۔تورات میں لکھا ہے کہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کیا مصر میں ہمارے لئے قبریں نہ تھیں۔اور یہ اضطراب اس وجہ سے پیدا ہوا کہ پیچھے فرعون کا لشکر اور آگے دریائے نیل تھا۔وہ دیکھتے تھے کہ نہ پیچھے جا کر بچ سکتے ہیں اور نہ آگے جا کر۔مگر اللہ تعالیٰ قادر مقتدر خدا ہے۔دریائے نیل میں سے انہیں راستہ مل گیا اور سارے بنی اسرائیل آرام کے ساتھ پار ہو گئے مگر فرعونیوں کا لشکر غرق ہو گیا۔سید احمد خاں صاحب اس موقع پر لکھتے ہیں کہ یہ جوار بھاٹا تھا مگر ہم کہتے ہیں کہ کچھ ہو اس میں کوئی