تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page xxi
صفحه ۲۴۸ ۲۴۸ ۲۴۹ ۲۵۰ ۲۵۱ ۲۵۲ ۲۵۲ ۲۵۴ ۲۵۵ ۲۵۷ ۲۶۱ XX نمبر شمار ۱۶۷ ۱۶۸ ۱۶۹ ۱۷۰ ۱۷۱ ۱۷۲ ۱۷۳ ۱۷۴ مضمون مؤمن کو چاہیے کہ دوسرے کے حالات سے عبرت پکڑے اہل اللہ مصائب شدائد کے بعد درجات پاتے ہیں یہ غلطی ہے جو کہا جاتا ہے کہ کسی ولی کے پاس جا کر صد ہاولی فی الفور بن گئے اللہ تعالیٰ کا یہ خاصا ہے کہ پرانے خاندانوں کو چھوڑ کر کسی اور کو لے لیتا ہے دعا میں خدا تعالیٰ کے ساتھ شرط باندھنا بڑی غلطی اور نادانی ہے امتحان یا آزمائش سے اصل غرض یہ ہوتی ہے کہ تا حقائق مخفیہ کا اظہار ہو جاوے عملی نمونے ایسے اعلیٰ درجے کے ہوں کہ ان سے تبدیلیاں ہوں اور ایسی تبدیلی ہو کہ خود انسان محسوس کرے یا د رکھو کہ ابتلا اور امتحان ایمان کی شرط ہے اس کے بغیر ایمان کامل ہوتا ہی نہیں اور کوئی عظیم الشان نعمت بغیر ابتلا ملتی ہی نہیں ۱۷۵ اکثر لوگ یہی چاہتے ہیں کہ ہتھیلی پر سرسوں جمادی جائے ۔۔۔۔۔ وہ دنیا جس ۱۷۶ ۱۷۷ کے لئے وہ رات دن مرتے ہیں اور ٹکریں مارتے ہیں اس کے کاموں کے لئے تو برسوں انتظار کرتے ہیں۔۔۔ لیکن دین کے کاموں میں آتے ہیں اور کہتے ہیں پھونک مار کر ولی بنا دو جب انسان اپنے ایمان کو استقامت کے ساتھ مدد نہ دے تو خدا کی مدد بھی منقطع ہو جاتی ہے صلاحیت کی دو قسمیں ہوتی ہیں ایک تو یہ کہ انسان تکالیف شاقہ اٹھا کر نیکیوں کا بوجھ اٹھاتا ہے دوسرے وہ تکلف اور تکلیف جو پہلے ہوتی تھی ذوق اور لذت سے بدل جاتی ہے