تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 168
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۶۸ سورة النور وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوة (البقرة : ۴۶) ان پر جب وہ ایک عرصہ تک قائم رہتا ہے تو یہ احکام بھی شرعی رنگ سے نکل کر کونئی رنگ اختیار کر لیتے ہیں اور پھر وہ ان احکام کی خلاف ورزی کر ہی نہیں سکتا۔الحکم جلدے نمبر ۲۵ مورخه ۱۰ جولائی ۱۹۰۳ صفحه ۱۵) لَيْسَ عَلَى الْأَعْلَى حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْأَعْرَجِ حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْمَرِيضِ حَرَجٌ وَلَا عَلَى اَنْفُسِكُمْ اَنْ تَأْكُلُوا مِنْ بُيُوتِكُمْ اَوْ بُيُوتِ بايكُم اَوْ بُيُوتِ أُمَّهَتِكُمْ اَوْ بُيُوتِ وود إخْوَانِكُمْ اَوْ بُيُوتِ اَخَوَتِكُمْ اَوْ بُيُوتِ اَعْمَامِكُمْ أَوْ بُيُوتِ عَشْتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ b اخْوَالِكُمْ اَوْ بُيُوتِ خَلتِكُمْ أوْ مَا مَلَكْتُمْ مَفَاتِحَة أَوْ صَدِيقِكُمْ لَيْسَ عَلَيْكُمْ جناح آن تأكُلُوا جَمِيعًا اَوْ اَشْتَاتًا فَإِذَا دَخَلْتُمْ بُيُوتًا فَسَلِمُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ تَحِيَّةٌ مِنْ عِنْدِ اللهِ مُبْرَكَةً طَيِّبَةً كَذلِكَ يُبَيِّنُ اللهُ لَكُمُ الأيتِ لَعَلَّكُم تَعْقِلُونَ چھوت وغیرہ در اصل اس بات کا نشان ہے کہ ہندوؤں کا مذہب کمزور ہے جو ہاتھ لگانے سے بھی جاتا رہتا ہے۔اسلام کی بنیاد چونکہ قوی تھی اس لئے اس نے ایسی باتوں کو اپنے مذہب میں نہیں رکھا چنانچہ کھانے کے متعلق فرما دیا لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَأْكُلُوا جَمِيعًا أَوْ أَشْتَاتًا - ( بدر جلد نمبر ۱۹ ۲۰ مورخه ۲۴ رمئی ۱۹۰۸ء صفحه ۳) اگر کھانا کھانے کو کسی کے ساتھ جی نہیں کرتا تو کسی اور بہانہ سے الگ ہو جاوے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَأْكُلُوا جَمِيعًا اَوْ اَشْتَاتا۔مگر اظہار نہ کرے یہ اچھا نہیں۔(البدر جلد ۲ نمبر ۲۷ مورخہ ۲۴ جولائی ۱۹۰۳ صفحه ۲۱۰)