تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 169
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام عُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيُطنِ الرَّحِيمِ ۱۶۹ سورة الفرقان بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة الفرقان بیان فرموده سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلا بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تَبْرَكَ الَّذِى نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَلَمِينَ نَذِيرَان وہ بہت ہی برکت والا ہے جس نے قرآن شریف کو اپنے بندہ پر اس غرض سے اتارا کہ تمام جہان کو ڈرانے والا ہو یعنی تا ان کی بدرا ہی اور بد عقیدگی پر ان کو متنبہ کرے۔پس یہ آیت بصراحت اس بات پر دلیل ہے کہ قرآن کا یہی دعویٰ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایسے وقت میں تشریف لائے تھے جبکہ تمام دنیا اور تمام قو میں بگڑ چکی تھیں اور مخالف قوموں نے اس دعوی کو نہ صرف اپنی خاموشی سے بلکہ اپنے اقراروں سے مان لیا ہے۔پس اس سے بہ بداہت نتیجہ نکلا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم در حقیقت ایسے وقت میں آئے تھے جس وقت میں ایک سچے اور کامل نبی کو آنا چاہیے۔پھر جب ہم دوسرا پہلو دیکھتے ہیں کہ آنجناب صلعم کس وقت واپس بلائے گئے تو قرآن صاف اور صریح طور پر ہمیں خبر دیتا ہے کہ ایسے وقت میں بلانے کا حکم ہوا کہ جب اپنا کام پورا کر چکے تھے یعنی اس وقت کے بعد بلائے گئے جبکہ یہ آیت نازل ہو چکی کہ مسلمانوں کے لئے تعلیم کا مجموعہ کامل ہو گیا اور جو کچھ ضروریات دین میں نازل ہونا تھا وہ سب نازل ہو چکا اور نہ صرف یہی بلکہ یہ بھی خبر دی گئی کہ خدا تعالیٰ کی تائید میں بھی کمال کو پہنچ گئیں اور جوق در جوق لوگ دین اسلام میں داخل ہو گئے اور یہ آیتیں بھی نازل ہو گئیں کہ خدا تعالیٰ نے ایمان اور تقویٰ کو ان کے دلوں میں لکھ دیا اور