تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 165
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة النُّور ہے کہ سلسلہ محمدیہ کے خلفاء کا خاتم بھی ایک مسیح ہی ہو۔(الحکم جلدے نمبر ۷ مورخه ۲۱ فروری ۱۹۰۳ صفحه ۲) كمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ میں جو استخلاف کا وعدہ ہے یہ بھی اس امر پر صاف دلیل ہے کہ کوئی پرانا نبی اخیر تک نہ آوے ورنہ گیا باطل ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے گما کے نیچے تو مثیل کو رکھا ہے عین کو نہیں رکھا پھر یہ کس قدر غلطی اور جرات ہے کہ خدا تعالیٰ کے منشا کے خلاف ایک بات اپنی طرف سے پیدا کر لی جاوے اور ایک نیا اعتقاد بنالیا جاوے۔اور پھر گیا میں مدت کی بھی تعیین ہے کیونکہ مسیح موسیٰ کے بعد چودھویں صدی میں آیا تھا اس لئے ضروری تھا کہ آنے والا محمدی مسیح بھی چودھویں صدی میں آئے۔غرض یہ آیت ان تمام امور کو حل کرتی ہے اگر کوئی سوچنے والا ہو۔احکام جلد ۶ نمبر ۳۹ مورخه ۳۱/اکتوبر ۱۹۰۲ صفحه ۶) کیا مِنكُم ثلاثه ہمارے مخالفوں کے لئے کافی نہیں۔ایک بخاری کا مِنْكُمْ اِمَامُكُمْ مِنْكُمْ ) مسلم کا مِنْكُمْ آمَكُمْ مِنْكُمْ ) اور سب سے بڑھ کر قرآن کا مِنكُمْ وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ ) - الحکم جلد ۶ نمبر ۴۰ مورخه ۱۰ نومبر ۱۹۰۲ صفحه ۱۶) قرآن پر تدبر سے نظر کرنے والے کو معلوم ہوگا کہ دو سلسلوں کا مساوی ذکر ہے اول سلسلہ جو موسیٰ سے شروع ہو کر مسیح علیہ السلام پر ختم ہوتا ہے اور دوسرا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے شروع ہوتا ہے یہ اس شخص پر ختم ہونا چاہیے جو مثیل مسیح ہو کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مثیلِ موسیٰ ہیں اِنَّا اَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ - الاية (المزمل : ۱۶) اور پھر سورہ نور میں وعدہ استخلاف فرمایا کہ جس طرح پر موسوی سلسله ہو گزرا ہے اسی طرح پر محمدی سلسلہ بھی ہوگا تا کہ دونوں سلسلوں میں بموجب آیات قرآنی با ہم مطابقت اور موافقت تامہ ہو چنانچہ جب کہ موسوی سلسلہ آخر عیسی علیہ السلام پر ختم ہوا ضروری تھا کہ محمدی سلسلہ کا خاتم بھی عیسی موعود ہوتا۔ان دونوں سلسلوں کا بہم تقابل مرا یا متقابلہ کی طرح ہے یعنی جب دو شیشے ایک دوسرے کے بالمقابل رکھے جاتے ہیں تو ایک شیشہ کا دوسرے میں انعکاس ہوتا ہے۔الحکم جلدے نمبر ۳ مورخه ۲۴ جنوری ۱۹۰۳ صفحه ۸) ( اس سوال کے جواب میں کہ قرآن میں مسیح موعود کا کہاں کہاں ذکر ہے۔فرمایا۔) سورۃ فاتحہ، سوره نور سوره تحریم وغیرہ میں۔سورہ فاتحہ میں تو اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ سورة نور میں وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمُ الآیۃ اور سورہ تحریم میں جہاں مومنوں کی مثالیں بیان کی ہیں ان میں فرمایا وَ مَرْيَمَ