تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 164 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 164

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۶۴ سورة النُّور ہوگا یعنی جس طرح موسیٰ نے ابتداء میں جلالی نشان دکھلائے اور فرعون سے چھڑا یا اسی طرح آنے والا نبی بھی رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۵۳) موسیٰ کی طرح ہوگا۔قرآن شریف نے اسرائیکی اور اسماعیلی سلسلوں میں خلافت کی مماثلت کا کھلا کھلا اشارہ کیا ہے جیسے اس آیت سے ظاہر ہے وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمُ الأمہ اسرائیلی سلسلہ کا آخری خلیفہ جو چودھویں صدی پر بعد از موسی علیہ السلام آیا وہ مسیح ناصری تھا۔مقابل میں ضروری تھا کہ اس اُمت کا مسیح بھی چودھویں صدی کے سر پر آوے۔رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۵۸) اس آیت میں استخلاف کے موافق جو خلیفے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سلسلہ میں ہوں گے وہ پہلے خلیفوں کی طرح ہوں گے اس قرآن شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مثیل موسی فرمایا گیا ہے جیسے فرمایا ہے إِنَّا أَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا اَرْسَلْنَا إِلى فِرْعَوْنَ رَسُولًا (المزمل : ۱۶) اور آپ مثیل موسیٰ استثنا کی پیشگوئی کے موافق بھی ہیں۔پس اس مماثلت میں جیسے گما کا لفظ فرمایا گیا ہے ویسے ہی سورہ نور میں گما کا لفظ ہے۔اس سے صاف معلوم ہوتا کہ موسوی سلسلہ اور محمدی سلسلہ میں مشابہت اور مماثلت تامہ ہے۔موسوی سلسلہ کے خلفاء کا سلسلہ حضرت عیسی علیہ السلام پر آکر ختم ہو گیا تھا اور وہ حضرت ہے۔موسوی موسیٰ علیہ السلام کے بعد چودھویں صدی میں آئے تھے۔اس مماثلت کے لحاظ سے کم از کم اتنا تو ضروری ہے کہ چوھویں صدی میں ایک خلیفہ اسی رنگ قوت کا پیدا ہو جو سیح سے مماثلت رکھتا ہو اور اسی کے قلب اور قدم پر ہو۔پس اگر اللہ تعالیٰ اس امر کی اور دوسری شہادتیں اور تائید میں نہ بھی پیش کرتا تو یہ سلسلہ مماثلت بالطبع چاہتا تھا کہ چودھویں صدی میں عیسوی بروز آپ کی امت میں ہو ورنہ آپ کی مماثلت میں معاذ اللہ ایک نقص اور ضعف ثابت ہوتا لیکن اللہ تعالیٰ نے نہ صرف اس مماثلت کی تصدیق اور تائید فرمائی بلکہ یہ بھی ثابت کر دکھایا کہ مثیل موسیٰ ، موسیٰ سے اور تمام انبیاء علیہم السلام سے افضل تر ہے۔الحکم جلدے نمبر ۲ مورخه ۱۷ جنوری ۱۹۰۳ صفحه ۲، ۳) آیت استخلاف میں اللہ تعالیٰ نے صاف طور ایک سلسلہ خلافت قائم کرنے کا وعدہ فرمایا اور اس سلسلہ کو پہلے سلسلہ خلافت کے ہم رنگ قرار دیا جیسا فرمایا كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ اب اس وعدہ استخلاف کے موافق اور اس کی مماثلت کے لحاظ سے ضروری تھا کہ جیسے موسوی سلسلہ خلافت کا خاتم الخلفاء مسیح تھا ضرور