تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 166 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 166

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۶۶ سورة النُّور ابْنَتَ عِمْرنَ الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرجَهَا (التحريم : ۱۳) - (الحکم جلدے نمبر ۳ مورخہ ۲۴ جنوری ۱۹۰۳ صفحه ۱۰) حضرت عیسی علیہ السلام براہ راست خدا کے نبی تھے اور میری نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے اور فیوض سے ہے پھر وہی عیسی کیوں کر آ سکتا ہے جبکہ سورۃ نور میں جو آیت استخلاف ہے اس میں وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُم لکھا ہے اور صحیح بخاری میں بھی اِمَامُكُم مِنكُمْ ہے پھر عیسی علیہ السلام تو فوت ہو چکے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں معراج کی رات مردوں میں دیکھ چکے جو بہشت میں ہوں انہیں زندوں سے کیا تعلق۔جس بات پر خدا نے اپنے قول سے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے فعل سے شہادت دے دی اس سے انکار کرنا دراصل میری تکذیب کرنا نہیں۔میں کیا ہوں اور میری تکذیب کیا در اصل یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب ہے۔( بدر جلد نمبر ۲۵ مورخه ۲۵ جون ۱۹۰۸ صفحه ۹) موعود وہ ہے جس کا ذکر منکم میں ہے جیسے کہ فرماتا ہے وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصلحت الخ ورنہ اس طرح خواہ صد با مسیح آویں اور کسی امت کے ہوں مگر وہ موعود نہ ہو دیں گے کیونکہ وہ منگھ سے باہر ہوں گے حالانکہ خدا تعالیٰ کا وعدہ منگم کا ہے پھر باہر سے آنے والا کیسے موعود ہو سکتا ہے۔البدر جلد ۲ نمبر ۲۶ مورخہ ۱۷؍جولائی ۱۹۰۳ء صفحہ ۲۰۲) مسیح موعود کی نسبت ان کا یہ خیال کہ وہ اسرائیلی مسیح ہو گا بالکل غلط ہے قرآن شریف میں صاف لکھا ہے کہ وہ تم میں سے ہوگا جیسے سورہ نور میں ہے وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ پھر بخاری میں بھی مِنكُمْ ہی ہے پھر مسلم میں بھی منکھ ہی صاف لکھا ہے۔ان کمبختوں کو اس قدر خیال نہیں آتا اگر اسی مسیح نے پھر آنا تھا تو منگم کی بجائے من بنی اسرائیل لکھا ہوتا۔اب قرآن شریف اور احادیث تو پکار پکار کر منگھ کہہ رہے ہیں مگر ان لوگوں کا دعویٰ من بنی اسرائیل کا ہے۔سوچ کر دیکھو کہ قرآن کو چھوڑیں یا ان کو۔البدر جلد ۲ نمبر ۳۹ مورخه ۱۶ /اکتوبر ۱۹۰۳ ء صفحه ۳۰۶) قرآن شریف نے بڑی وضاحت کے ساتھ دو سلسلوں کا ذکر کیا ہے ایک وہ سلسلہ ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے شروع ہوا اور حضرت مسیح علیہ السلام پر آکر ختم ہوا اور دوسرا سلسلہ جو اسی سلسلہ کے مقابل پر واقع ہوا ہے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سلسلہ ہے چنانچہ توریت میں بھی آپ کو مثیل موسیٰ کہا گیا اور قرآن شریف میں بھی آپ کو مثیل موسیٰ ٹھہرایا گیا ہے جیسے فرمایا ہے اِنَّا اَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا اَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولًا (المزمل: ۱۲)۔پھر جس طرح پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کا سلسلہ حضرت مسیح پر