تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page xix
xviii مضمون جو آسمانی قوت کے ساتھ آنے والا تھا اس کو نزول کے لفظ سے یاد کیا گیا جو زمینی قوت کے ساتھ نکلنے والا تھا اس کو خروج کے لفظ کے ساتھ پکارا گیا دابۃ الارض در حقیقت اسم جنس ایسے علماء کے لئے ہے جو وجہ تین واقع ہوئے ہیں ایک تعلق ان کا دین اور حق سے ہے ایک تعلق دنیا اور دجالیت سے ہے میرے دل میں ڈالا گیا کہ وہ دابۃ الارض طاعون ہے جس کی نسبت قرآن شریف میں وعدہ تھا کہ آخری زمانہ میں ہم اس کو نکالیں گے قرآن شریف میں جہاں کہیں (دابۃ ) کا یہ مرکب نام آیا ہے اس سے مراد کیڑا لیا گیا ہے جب بات کی حقیقت کھل جائے تو ایسے اوہام باطلہ کے ساتھ حقیقت کو چھوڑنا کمال جہالت ہے اسی عادت سے بد بخت یہودی قبول حق سے محروم رہ گئے آنحضرت کی تدریجی ترقی میں یہ ستر تھا کہ آپ کی ترقی کا ذریعہ محض قرآن تھا یہ جو اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا وہ دابۃ الارض زمین سے نکلے گا اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جب مسلمان اور ان کے علماء زمین کی طرف جھک کر خود دابۃ الارض بن جائیں گے خدا تعالیٰ جانتا تھا کہ اس کے وقت تثلیث کا مذہب ترقی پر ہوگا اور بہت سے بد قسمت انسان عیسائی ہو جائیں گے اس لئے اس نے مسلمانوں کو دعا سکھائی اور دعا میں مغضوب کا لفظ کہہ رہا ہے کہ وہ لوگ اسلامی مسیح کی صفحه ۲۲۸ ۲۲۸ ۲۲۹ ۲۳۰ ۲۳۱ ۲۳۲ ۲۳۲ ۲۳۲ ۲۳۳ مخالفت کریں گے دابۃ الارض کے دو معنی ہیں ایک وہ علماء جن کو آسمان سے حصہ نہیں ملا دوسرے دابۃ الارض سے مراد طاعون ہے نمبر شمار ۱۴۸ ۱۴۹ ۱۵۰ ۱۵۱ ۱۵۲ ۱۵۳ اولد ۱۵۵ ۱۵۶