تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page xvi
صفح ١٨١ ۱۸۲ ۱۸۵ ۱۸۷ ۱۸۸ ۱۹۱ ۱۹۱ ۱۹۲ ۱۹۲ ۱۹۳ ۱۹۴ ١٩٦ XV نمبر شمار ۱۱۴ ۱۱۵ 117 ۱۱۷ ۱۱۸ 119 ۱۲۰ ۱۲۱ ۱۲۲ ۱۲۳ ۱۲۵ مضمون یا درکھو قرآن شریف حقیقی برکات کا سر چشمہ اور نجات کا سچا ذریعہ ہے انبیاء علیہم السلام اللہ تعالیٰ کے مکتب میں تعلیم پانے والے ہوتے ہیں اور تلامیذ الرحمن کہلاتے ہیں ان کی ترقی بھی تدریجی ہوتی ہے تمام مرسل روحانی آدم ہیں اور ان کی امت کے نیک لوگ ان کی روحانی نسلیں ہیں هون۔۔۔۔۔۔دوسرے کو ظلم کی راہ سے بدنی آزار نہ پہنچانا اور بے شر انسان ہونا اور صلح کاری کے ساتھ زندگی بسر کرنا جب تک آسمان سے تریاق نہ ملے تو دل درست نہیں رہتا جب تک اولاد کی خواہش محض اس غرض کے لئے نہ ہو کہ وہ دیندار اور متقی ہو۔۔۔۔بالکل فضول بلکہ ایک قسم کی معصیت اور گناہ ہے صالح اور متقی اولاد کی خواہش سے پہلے ضروری ہے کہ وہ خود اپنی اصلاح کرے اور اپنی زندگی کو منتقیانہ زندگی بنادے نیکی کو محض اس لئے کرنا چاہیے کہ خدا تعالیٰ خوش ہو اور اس کی رضا حاصل ہو۔۔قطع نظر اس کے کہ ثواب ہو یا نہ ہو میری تو کوئی نماز ایسی نہیں جس میں میں اپنے دوستوں اور اولاد اور بیوی کے لئے دعا نہیں کرتا اولاد کی پرورش محض رحم کے لحاظ سے کرے نہ جانشین بنانے کے واسطے ۱۲۴ قرآن بار بار کہتا ہے کہ بہشت میں جسم اور روح دونوں کو جزا ملے گی انسان کی پیدائش کی اصل غرض تو عبادت الہی ہے لیکن اگر وہ اپنی فطرت کو خارجی اسباب اور بیرونی تعلقات سے تبدیل کر کے بریکار کر لیتا ہے تو خدا تعالیٰ اس کی پرواہ نہیں کرتا