تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xvi of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page xvi

XV مضمون یا درکھو قرآن شریف حقیقی برکات کا سر چشمہ اور نجات کا سچا ذریعہ ہے انبیاء علیہم السلام اللہ تعالیٰ کے مکتب میں تعلیم پانے والے ہوتے ہیں اور تلامیذ الرحمن کہلاتے ہیں ان کی ترقی بھی تدریجی ہوتی ہے تمام مرسل روحانی آدم ہیں اور ان کی امت کے نیک لوگ ان کی روحانی نسلیں ہیں ھون ۔۔۔۔۔۔ دوسرے کو ظلم کی راہ سے بدنی آزار نہ پہنچانا اور بے شر انسان ہونا اور صلح کاری کے ساتھ زندگی بسر کرنا جب تک آسمان سے تریاق نہ ملے تو دل درست نہیں رہتا جب تک اولاد کی خواہش محض اس غرض کے لئے نہ ہو کہ وہ دیندار اور متقی ہو ۔۔۔۔ بالکل فضول بلکہ ایک قسم کی معصیت اور گناہ ہے صالح اور متقی اولاد کی خواہش سے پہلے ضروری ہے کہ وہ خودا اپنی اصلاح کرے اور اپنی زندگی کو متقیا نہ زندگی بنادے نیکی کو محض اس لئے کرنا چاہیے کہ خدا تعالیٰ خوش ہو اور اس کی رضا حاصل ہو ۔۔ قطع نظر اس کے کہ ثواب ہو یا نہ ہو میری تو کوئی نماز ایسی نہیں جس میں میں اپنے دوستوں اور اولا داور بیوی کے لئے دعا نہیں کرتا اولاد کی پرورش محض رحم کے لحاظ سے کرے نہ جانشین بنانے کے واسطے قرآن بار بار کہتا ہے کہ بہشت میں جسم اور روح دونوں کو جزا ملے گی انسان کی پیدائش کی اصل غرض تو عبادت الہی ہے لیکن اگر وہ اپنی فطرت کو خارجی اسباب اور بیرونی تعلقات سے تبدیل کر کے بیکار کر لیتا ہے تو خدا تعالیٰ اس کی پرواہ نہیں کرتا صفحه ۱۸۱ ۱۸۲ ۱۸۵ ۱۸۷ ۱۸۸ ۱۹۱ ۱۹۱ ۱۹۲ ۱۹۲ ۱۹۳ ۱۹۴ ۱۹۶ نمبر شمار ۱۱۴ ۱۱۵ ١١۶ ۱۱۷ ۱۱۸ ۱۱۹ ۱۲۰ ۱۲۱ ۱۲۲ ۱۲۳ ۱۲۴ ۱۲۵