تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 110
+11 سورة النُّور تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کچھ عرصہ پہلے یہ لفظ بنی اسرائیل میں شائع ہو گیا تھا۔بہر حال اگر چہ بنی اسرائیل میں کئی مسیح آئے لیکن سب سے پیچھے آنے والا مسیح وہی ہے جس کا نام قرآن کریم میں مسیح عیسی بن مریم بیان کیا گیا ہے۔بنی اسرائیل میں مریمیں بھی کئی تھیں اور ان کے بیٹے بھی کئی تھے لیکن مسیح عیسی بن مریم یعنی ان تینوں ناموں سے ایک مرکب نام بنی اسرائیل میں اُس وقت اور کوئی نہیں پایا گیا۔سوسیح عیسی بن مریم یہودیوں کی اس خراب حالت میں آیا جس کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے۔آیات موصوفہ بالا میں ابھی ہم بیان کر چکے ہیں کہ خدائے تعالیٰ کا اس اُمت کے لئے وعدہ تھا کہ بنی اسرائیل کی طرز پر ان میں بھی خلیفے پیدا ہوں گے۔اب ہم جب اس طرز کو نظر کے سامنے لاتے ہیں تو ہمیں ماننا پڑتا ہے کہ ضرور تھا کہ آخری خلیفہ اس اُمت کا مسیح ابن مریم کی صورت مثالی پر آوے اور اس زمانہ میں آوے کہ جو اُس وقت سے مشابہ ہو جس وقت میں بعد حضرت موسیٰ کے مسیح ابن مریم آئے تھے یعنی چودھویں صدی میں یا اس کے قریب اُس کا ظہور ہو اور ایسا ہی بغیر سیف وستان کے اور بغیر آلات حرب کے آوے جیسا کہ حضرت مسیح ابن مریم آئے تھے اور نیز ایسے ہی لوگوں کی اصلاح کے لئے آوے جیسا کہ مسیح ابن مریم اُس وقت کے خراب اندرون یہودیوں کی اصلاح کے لئے آئے تھے۔اور جب آیات ممدوحہ بالا کو غور سے دیکھتے ہیں تو ہمیں ان کے اندر سے یہ آواز سنائی دیتی ہے کہ ضرور آخری خلیفہ اس اُمت کا جو چودھویں صدی کے سر پر ظہور کرے گا حضرت مسیح کی صورت مثالی پر آئے گا اور بغیر آلات حرب ظہور کرے گا دو سلسلوں کی مماثلت میں یہی قاعدہ ہے کہ اول اور آخر میں اشد درجہ کی مشابہت اُن میں ہوتی ہے۔کیونکہ ایک لنبے سلسلہ اور ایک طولانی مدت میں تمام درمیانی افراد کا مفصل حال معلوم کرنا طول بلا طائل ہے۔پس جبکہ قرآن کریم نے صاف صاف بتلا دیا کہ خلافت اسلامی کا سلسلہ اپنی ترقی اور تنزل اور اپنی جلالی اور جمالی حالت کی رو سے خلافت اسرائیلی سے بکلی مطابق و مشابہ ومماثل ہوگا اور یہ بھی بتلادیا کہ نبی عربی اقی مثیل موسیٰ ہے تو اس ضمن میں قطعی اور یقینی طور پر بتلایا گیا کہ جیسے اسلام میں سردفتر الہی خلیفوں کا مثیل موسیٰ ہے جو اس سلسلہ اسلامیہ کا سپہ سالار اور بادشاہ اور تخت عزت کے اول درجہ پر بیٹھنے والا اور تمام برکات کا مصدر اور اپنی روحانی اولاد کا مورث اعلیٰ ہے صلی اللہ علیہ وسلم۔ایسا ہی اس سلسلہ کا خاتم باعتبار نسبت تامہ وہ مسیح عیسی بن مریم ہے جو اس امت کے لوگوں میں سے بحکم ربی مسیحی صفات سے رنگین ہو گیا ہے اور فرمان جَعَلْنَاكَ الْمَسِيحَ ابن مریم نے اُس کو در حقیقت وہی بنادیا ہے۔وَكَانَ اللهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قديرا۔اور اس آنے والے کا نام جو احمد رکھا گیا ہے وہ بھی اس کے مثیل ہونے کی طرف اشارہ ہے کیونکہ محمد