تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xiii of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page xiii

صفحه ۱۰۱ ۱۰۵ ۱۰۵ ١٠٦ ۱۰۷ ۱۱۰ ١١۶ ۱۲۵ ۱۲۶ ۱۲۸ xii مضمون خلق کے لفظ سے جو کسی مذمت کی قید کے بغیر بولا جائے ہمیشہ اخلاق فاضلہ مراد ہوتے ہیں رِجَالُ لا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةً ۔۔۔۔۔ یہ ایک ہی آیت صحابہ کے حق میں کافی ہے کہ انہوں نے بڑی بڑی تبدیلیاں کی تھیں دین اور دنیا ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے ۔سوائے اس حالت کے جب خدا چاہے تو کسی شخص کی فطرت کو ایسا سعید بنائے خدا کا ہرگز یہ منشا نہیں کہ تم دنیا کو بالکل ترک کر دو خدا کے حکم سے تخلف کرنا معصیت اور موجب دخول جہنم ہے اگر چہ بنی اسرائیل میں کئی مسیح آئے لیکن سب سے پیچھے آنے والا مسیح وہی ہے جس کا نام قرآن کریم میں مسیح عیسی بن مریم بیان کیا گیا ہے مِنْكُم کا لفظ قرآن کریم میں سیاسی جگہ آیا ہے بجز دو یا تین جگہوں کے تمام مواضع میں منکم کے خطاب سے وہ تمام مسلمان مراد ہیں جو قیامت تک پیدا ہوتے رہیں گے خدا تعالیٰ نے دائمی خلیفوں کا وعدہ دیا تا وہ ظلی طور پر انوار نبوت یا کرد پا دنیا کو ملزم کریں اور قرآن کریم کی خوبیاں اور اس کی برکات لوگوں کو دکھائیں حضرت موسیٰ سے حضرت مسیح تک ہزار ہا نبی اور محدث ان میں پیدا ہوئے جو خادموں کی طرح کمر بستہ ہو کر تو رات کی خدمت میں مصروف رہے یادر ہے کہ مسجد دلوگ دین میں کچھ کمی بیشی نہیں کرتے ہاں گمشدہ دین کو پھر دلوں پر قائم کرتے ہیں اور یہ کہنا کہ مجددوں پر ایمان لانا کچھ فرض نہیں خدا تعالیٰ کے حکم سے انحراف ہے نمبر شمار ۸۲ ۸۳ لد ۸۵ ۸۶ ۸۷ ۸۸ ۸۹ ۹۰ ۹۱