تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xiv of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page xiv

Xiii نمبر شمار ۹۲ ۹۳ ۹۴ ۹۵ ۹۶ ۹۷ ۹۸ ۹۹ 1+1 ۱۰۲ مضمون اسلامی خلافت دائمی ہے اس لئے کہ یرتھا کا لفظ دوام کو چاہتا ہے جب امت کو اندھارکھنا ہی منظور ہے اور اس مذہب کو مردہ رکھنا ہی مدنظر ہے تو پھر یہ کہنا تم سب سے بہتر ہو اور لوگوں کی بھلائی اور راہنمائی کے لئے پیدا کئے گئے کیا۔۔۔۔معنی رکھتا ہے مماثلت تامہ کاملہ استخلاف محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کی استخلاف موسوی سے مسیح موعود کا آنا ضروری ٹھہراتی ہے میں روحانیت کی رو سے اسلام میں خاتم الخلفاء ہوں جیسا مسیح ابن مریم اسرائیلی سلسلہ کے لئے خاتم الخلفاء تھا قرآن جیسا کہ گما کے لفظ سے مستنبط ہوتا ہے دونوں سلسلوں کے تمام خلیفوں کو من وجه مغائر قرار دیتا ہے شیخ محی الدین ابن عربی اپنی کتاب فصوص میں مہدی خاتم الاولیاء کی ایک علامت لکھتے ہیں اس کا خاندان چینی حدود میں سے ہوگا اس کی پیدائشی میں یہ ندرت ہوگی کہ اس کے ساتھ ایک لڑکی بطور توام پیدا ہوگی تمام شبہات کو حضرت ابوبکر نے کمال صفائی سے حل کر دیا تمام صحابہ میں سے ایک فرد ایسا نہ رہا جس کا گذشتہ انبیاء کی موت پر اعتقاد نہ ہو سلسله محمدی اور سلسلہ موسوی کی مشابہتیں حضرت ابو بکر اور حضرت مسیح موعود کی مشابہتیں یوشع بن نون اور حضرت ابوبکر کی مشابہتیں سلسلہ عیسوی اور سلسلہ محمدی میں مسئلہ تکفیر میں باہمی مشابہت صفح ۱۲۹ ۱۳۰ ۱۳۲ ۱۳۹ ۱۳۹ ۱۴۱ ۱۴۲ ۱۴۵ ۱۴۶ ۱۴۸