تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 63
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۶۳ سورة النحل طرح طرح کی بد عقیدگی میں پڑگئے ہیں ان کو بذریعہ اپنی کامل و صحیح تقریر کے غلطی پر مطلع کرے اور مدلل اور واضح بیان سے ان کا گمراہ ہونا ان کو جتلا دے تا اگر اطلاع پا کر پھر بھی وہ باز نہ آویں اور غلطی کو نہ چھوڑیں تو سزا کے لائق ہوں۔خدائے تعالیٰ ایک کو مجرم ٹھہرا کر پکڑ لے اور سزا دینے کو طیار ہو جائے۔مگر بیان واضح سے اس کے دلائل بریت کا غلط ہونا ثابت نہ کرے اور اس کے دلی شبہات کو اپنی کھلی کلام سے نہ مٹاوے۔کیا یہ اُس کا منصفانہ حکم ہوگا؟ ( براہینِ احمدیہ چہار صص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۲۵،۲۲۴ حاشیہ نمبر ۱۱) اور یہ کتاب اس لئے نازل کی گئی ہے کہ تا ان لوگوں کا رفع اختلافات کیا جائے اور تا مومنوں کے لئے وہ تان کا اور تا ہدایتیں جو پہلے کتابوں میں ناقص رہ گئی تھیں کامل طور پر بیان کی جائیں تا وہ کامل رحمت کا موجب ہو۔(براہین احمدیہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد اصفحه ۶۲۷،۶۲۶) وَاللهُ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَاَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً للورود لقوم يسمعون۔اور حقیقت حال یہ ہے کہ زمین ساری کی ساری مرگئی تھی۔خدا نے آسمان سے پانی اتارا اور نئے سرے اس مردہ زمین کو زندہ کیا۔یہ ایک نشان صداقت اس کتاب کا ہے۔پر ان لوگوں کے لئے جو سنتے ہیں یعنے طالب حق ہیں۔اب غور سے دیکھنا چاہیئے کہ وہ تینوں مقدمات متذکرہ بالا کہ جن سے ابھی ہم نے آنحضرت کے کچے بادی ہونے کا نتیجہ نکالا تھا۔کس خوبی اور لطافت سے آیات ممدوحہ میں درج ہیں۔اول گمراہوں کے دلوں کو جو صد ہا سال کی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے۔زمین خشک اور مردہ سے تشبیہہ دے کر اور کلام الہی کو مینہ کا پانی جو آسمان کی طرف سے آتا ہے ٹھہرا کر اس قانون قدیم کی طرف اشارہ فرمایا جو امساک باران کی شدت کے وقت میں ہمیشہ رحمت الہی بنی آدم کو برباد ہونے سے بچا لیتی ہے اور یہ بات جتلا دی کہ یہ قانون قدرت صرف جسمانی پانی میں محدود نہیں بلکہ روحانی پانی بھی شدت اور صعوبت کے وقت میں جو پھیل جانا عام گمراہی کا ہے ضرور نازل ہوتا ہے اور اس جگہ بھی رحمت الہی آفت قلوب کا غلبہ توڑنے کے لئے ضرور ظہور کرتی ہے۔اور پھر انہیں آیات میں یہ دوسری بات بھی بتلا دی کہ آنحضرت کے ظہور سے پہلے تمام زمین گمراہ ہو چکی تھی اور اسی طرح اخیر پر یہ بھی ظاہر کر دیا کہ ان روحانی مردوں کو اس کلام پاک نے زندہ کیا اور آخر یہ