تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 62 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 62

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۶۲ سورة النحل W تَاللهِ لَقَدْ اَرْسَلْنَا إِلَى أُمَمٍ مِنْ قَبْلِكَ فَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطنُ أَعْمَالَهُمْ فَهُوَ وَلِيُّهُمُ الْيَوْمَ وَلَهُمْ عَذَابٌ اَلِيم۔ہم کو اپنی ذات الوہیت کی قسم ہے جو مہدہ فیضان ہدایت و پرورش اور جامع تمام صفات کا ملہ ہے جو ہم نے تجھ سے پہلے دنیا کے کئی فرقوں اور قوموں میں پیغمبر بھیجے۔پس وہ لوگ شیطان کے دھوکا دینے سے بگڑ گئے اور برے کام ان کو اچھے دکھائی دینے لگے۔سو وہی شیطان آج ان سب کا رفیق ہے جو ان کو جادہ استقامت سے منحرف کر رہا ہے۔بر اتلان احمد یه چهار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۶۲۶،۶۲۵ حاشیہ نمبر ۱۰) (براہین وَمَا اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَبَ إِلَّا لِتُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِي اخْتَلَفُوا فِيهِ وَ هُدًى وَ رَحْمَةٌ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ ) اور یہ کتاب اس لئے نازل کی گئی کہ تا ان لوگوں کا رفع اختلافات کیا جائے اور جو مرحق ہے وہ کھول کر سنایا جائے۔(برائین احمد یہ چہار صص، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۱۱۵ حاشیہ نمبر ۱۰) ہم نے اس لئے کتاب کو نازل کیا ہے تا جو اختلافات عقول ناقصہ کے باعث سے پیدا ہو گئے ہیں یا کسی عمداً افراط و تفریط کرنے سے ظہور میں آئے ہیں ان سب کو دور کیا جائے۔اور ایمانداروں کے لئے سیدھا راستہ بتلا یا جاوے۔اس جگہ اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ جو فساد بنی آدم کے مختلف کلاموں سے پھیلا ہے اُس کی اصلاح بھی کلام ہی پر موقوف ہے یعنے اس بگاڑ کے درست کرنے کے لئے جو بیہودہ اور غلط کلاموں سے پیدا ہوا ہے ایسے کلام کی ضرورت ہے کہ جو تمام عیوب سے پاک ہو کیونکہ یہ نہایت بدیہی بات ہے کہ کلام کا ر ہنزدہ کلام ہی کے ذریعہ سے راہ پر آ سکتا ہے۔صرف اشارات قانونِ قدرت تنازعات کلامیہ کا فیصلہ نہیں کر سکتے اور نہ گمراہ کو اس کی گمراہی پر بصفائی تمام ملزم کر سکتے ہیں۔جیسے اگر جج نہ مدعی کی وجوہات بہ تصریح قلمبند کرے۔نہ مدعا علیہ کے عذرات کو بدلائل قاطعہ توڑے تو پھر کیوں کر ممکن ہے کہ صرف اس کے اشارات سے فریقین اپنے اپنے سوالات و اعتراضات ووجو ہات کا جواب پالیس اور کیوں کر ایسے مبہم اشارات پر جن سے کسی فریق کا باطمینان کامل رفع عذر نہیں ہوا حکم اخیر مترتب ہو سکتا ہے۔اسی طرح خدا کی حجت بھی بندوں پر تب ہی پوری ہوتی ہے کہ جب اس کی طرف سے یہ التزام ہو کہ جو لوگ غلط تقریروں کے اثر سے