تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 64 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 64

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۶۴ سورة النحل بات کہہ کر کہ اس میں اس کتاب کی صداقت کا نشان ہے۔طالبین حق کو اس نتیجہ نکالنے کی طرف توجہ دلائی کہ فرقان مجید خدا کی کتاب ہے۔اور جیسا کہ اس دلیل سے حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا نبی صادق ہونا ثابت ہوتا ہے۔ایسا ہی اس سے آنحضرت کا دوسرے نبیوں سے افضل ہونا بھی ثابت ہوتا ہے۔کیونکہ آنحضرت کو تمام عالم کا مقابلہ کرنا پڑا اور جو کام حضرت ممدوح کو سپرد ہوا وہ حقیقت میں ہزار دو ہزار نبی کا کام تھا۔لیکن چونکہ خدا کو منظور تھا جو بنی آدم ایک ہی قوم اور ایک ہی قبیلہ کی طرح ہو جائیں اور غیریت اور بیگانگی جاتی رہے اور جیسے یہ سلسلہ وحدت سے شروع ہوا ہے وحدت پر ہی ختم ہو۔اس لئے اس نے آخری ہدایت کو تمام دنیا کے لئے مشترک بھیجا۔اور اس وقت زمانہ بھی وہ آ پہنچا تھا کہ باعث کھل جانے راستوں اور مطلع ہونے ایک قوم کے دوسری قوم سے اور ایک ملک کے دوسرے ملک سے اتحاد سلسلہ نوعی کی کارروائی شروع ہو گئی تھی اور بوجہ میل ملاپ دائی کے خیالات بعض ملکوں کے بعض ملکوں میں اثر کرنے لگے تھے۔چنانچہ یہ کارروائی اب تک ترقی پر ہے اور سارے سامان جیسے ریل تار اور جہاز وغیرہ ایسے ہی دن بدن نکلتے آتے ہیں کہ جن سے یقینا یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس قادر مطلق کا یہی ارادہ ہے کہ کسی دن تمام دنیا کو ایک قوم کی طرح بنا دے۔بہر حال پہلے نبیوں کی محدودکوشش تھی کیونکہ ان کی رسالت بھی ایک قوم میں محدود ہوتی تھی اور آنحضرت کی غیر محدود اور وسیع کوشش تھی کیونکہ ان کی رسالت عام تھی۔یہی وجہ ہے جو فرقان مجید میں دنیا کے تمام مذاہب باطلہ کا ردموجود ہے اور انجیل میں صرف یہودیوں کی بد چلنی کا ذکر ہے۔پس آنحضرت کا دوسرے نبیوں سے افضل ہونا ایسی غیر محدود کوشش سے ثابت ہے۔ماسوا اس کے یہ بات اجلی بدیہات ہے کہ شرک اور مخلوق پرستی کو دور کرنا اور وحدانیت اور جلال الہی کو دلوں پر جمانا سب نیکیوں سے افضل اور اعلیٰ نیکی ہے۔پس کیا کوئی اس سے انکار کر سکتا ہے کہ یہ نیکی جیسی آنحضرت سے ظہور میں آئی ہے۔کسی اور نبی سے ظہور میں نہیں آئی۔آج دنیا میں بجز فرقان مجید کے اور کون سی کتاب ہے کہ جس نے کروڑ ہا مخلوقات کو تو حید پر قائم کر رکھا ہے اور ظاہر ہے کہ جس کے ہاتھ سے بڑی اصلاح ہوئی وہی سب سے بڑا ہے۔( براہینِ احمد یہ چہار تصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۱۱۵ تا ۱۱۸ حاشیہ نمبر ۱۰) و أوحى رَبُّكَ إِلَى النَّحْلِ أَنِ اتَّخِذِى مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتًا وَ مِنَ الشَّجَرِ وَمِمَّا