تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 59 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 59

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۹ سورة النحل کے کاندھوں پر ہاتھ رکھے اُترا۔اگر یہ عادت اللہ ہوتی تو کوئی نظیر اس کی گزشتہ قرون میں ضرور ملتی۔کیونکہ دنیا تھوڑی رہ گئی ہے اور بہت گزرگئی اور آئندہ کوئی واقعہ دنیا میں نہیں جس کی پہلے نظیر نہ ہو۔حالانکہ جو امر سنت اللہ میں داخل ہے اُس کی کوئی نظیر ہونی چاہئیں۔اللہ تعالی ہمیں صاف فرماتا ہے فَسَتَلُوا أَهْلَ الذِكْرِ اِن كُنتُم لا تعلمون یعنی ہر ایک نئی بات جو تمہیں بتلائی جائے تم اہلِ کتاب سے پوچھ لو وہ تمہیں اس کی نظیریں بتلائیں گے لیکن اس واقعہ کی یہود اور نصاریٰ کے ہاتھ میں بجز ایلیا کے قصے کے کوئی اور نظیر نہیں اور ایلیا کا قصہ اس عقیدہ کے برخلاف شہادت دیتا ہے اور دوبارہ آنے کو بروزی رنگ میں بتلاتا ہے۔ایام اصلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۳۸۹) کتب سابقہ میں جو بنی اسرائیلی نبیوں پر نازل ہوئی تھیں صاف اور صریح طور پر معلوم ہوتا ہے بلکہ نام لے کر بیان کیا ہے کہ یا جوج ماجوج سے مراد یورپ کی عیسائی قومیں ہیں اور یہ بیان ایسی صراحت سے ان کتابوں میں موجود ہے کہ کسی طرح اس سے انکار نہیں ہو سکتا۔اور یہ کہنا کہ وہ کتابیں محرف مبدل ہیں۔ان کا بیان قابل اعتبار نہیں ایسی بات وہی کہے گا جو خود قرآن شریف سے بے خبر ہے۔کیونکہ اللہ جل شانہ مومنوں کو قرآن شریف میں فرماتا ہے فستَلُوا أَهْلَ الذِكرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ یعنی فلاں فلاں باتیں اہل کتاب سے پوچھ لو اگر تم بے خبر ہو۔پس ظاہر ہے کہ اگر ہر ایک بات میں پہلی کتابوں کی گواہی ناجائز ہوتی تو خدا تعالیٰ کیوں مومنوں کو فر ما تا کہ اگر تمہیں معلوم نہیں تو اہل کتاب سے پوچھ لو بلکہ اگر نبیوں کی کتابوں سے کچھ فائدہ اٹھانا حرام ہے تو اس صورت میں یہ بھی ناجائز ہوگا کہ ان کتابوں میں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت بطور استدلال پیشگوئیاں پیش کریں۔حالانکہ خود صحابہ رضی اللہ عنہم اور بعد ان کے تابعین بھی ان پیشگوئیوں کو بطور حجت پیش کرتے رہے ہیں۔چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۸۳ حاشیه ) اگر چہ ہم ان کتابوں کی بابت تو یہی کہتے کہ فَلَا تُصَدِّقُوا فَلَا تُكَذِبُوا لیکن یہ بھی ساتھ ہی ضروری بات ہے کہ قرآن شریف میں یہ آیا ہے فَسَتَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ - الحکم جلد ۷ نمبر ۵ مورخہ ۷ رفروری ۱۹۰۳ صفحه ۱) ہر ایک امر میں نظائر ضروری ہیں۔جس چیز میں نظیر نہیں وہ چیز خطر ناک ہے۔آج کل جس طرح کا ہمارا جھگڑا ہے اسی قسم کا ایک جھگڑا پہلے بھی اہل کتاب میں گزر چکا ہے اور وہ الیاس کا معاملہ تھا۔ان کی کتابوں میں لکھا تھا کہ مسیح آسمان سے نہیں نازل ہو گا جب تک ایلیا آسمان سے دوبارہ نہ آئے۔اسی بنا پر جب حضرت مسیح آئے اور انہوں نے یہود کو ایمان کی دعوت کی تو انہوں نے صاف انکار کیا کہ ہمارے ہاں مسیح کی علامت یہ