تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 58
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۸ سورة النحل لا فَمَا بَالُ يَوْمٍ إِذَا نَزَل فِي الْغَبْرَاءِ وَكَانَتِ پس اس دن حال کیا ہوگا جب وہ زمین پر اتر آئیں گے۔الْيَهُودُ قَبْلَ ذَالِكَ يَنْتِظِرُونَ، كَمَثَلِ اس سے پہلے یہود ہماری قوم کی طرح حضرت الیاس کے قَوْمِنَا إِلْيَاسَ فَمَا كَانَ مَالُ أَمْرِهَمْ إِلا منتظر تھے لیکن ان کے معاملہ کا انجام بجز مایوسی کے کچھ نہ يَأْسٌ۔فمن عَقْلِ الْمَرْءِ أَنْ يَعْتَبِرَ بِالْغَيْرِ ہوا۔انسان کے لئے عقل کا طریق یہ ہے کہ وہ دوسروں وَيَجْتَنِبَ سُبُلَ الضَّيْرِ، وَقَد قَالَ الله سے عبرت حاصل کرے اور ضرر اور نقصان کے راستوں تعالى: فَسْتَلُوا أَهْلَ الذكْرِ إِن كُنتُم لا سے بچے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اگر تم نہیں جانتے تو اہل ذکر تَعْلَمُونَ * فَلْيَسْأَلُوا النَّصَارَى هَلْ نَزَلَ سے پوچھ لو۔پس مسلمان عیسائیوں سے دریافت کریں کہ إِلْيَاسُ قَبْلَ عِيسَى مِنَ السَّمَاءِ كَمَا کیا ان کے خیال کے مطابق عیسی علیہ السلام سے پہلے كَانُوا يَزْعُمُونَ وَلْيَسْأَلُوا الْيَهُودَ هَلْ الیاس آسمان سے اترے۔اور یہودیوں سے بھی سوال وَجَدتُّمْ مَّا فَقَدْتُّمْ أَيُّهَا الْمُنْتَظِرُونَ کریں کہ اے انتظار کرنے والو! کیا تم نے اپنی گمشدہ چیز فَتَبَتَ مِنْ هَذَا أَنَّ هَذِهِ الْعَقَائِدَ نیست کو پا لیا۔پس اس سے ثابت ہوا کہ یہ عقائد محض خواہشات إِلَّا الْأَهْوَاء وَلَا يجي، أحد فمن السَّمَاءِ اور خیالات ہیں۔نہ کوئی آسمان سے آئے گا اور نہ کوئی وَمَا جَاءَ۔فَمَنْ كَانَ يَبْنِي أَمْرَهُ عَلَى الْعَادَةِ آسمان سے آیا۔پس جو شخص اپنے عقیدہ اور عمل کی بنیاد الْمُسْتَمِرةِ وَالسُّنَّةِ الْجَارِيَةِ هُوَ أَحَقُ عادت مستمرہ اور سنت جاریہ پر رکھتا ہے وہ اس شخص سے بالأمن مِن رَّجُلٍ يَأْخُذُ طَرِيقًا غَيْرَ زیادہ امن کا حقدار ہے جو ایسے راستہ کو اختیار کرتا ہے جو سَبِيلٍ مُتَوَارِبٍ مِنَ السَّابِقِينَ وَلَا پہلے لوگوں سے ورثہ میں نہیں ملا اور نہ اس کی کوئی نظیر سابقین میں پائی جاتی ہے۔( ترجمہ از مرتب ) يُوجَدُ نَظِيرُهُ فِي الْأَوَّلِين۔(مواهب الرحمن ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۳۱، ۳۱۲) اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں ہمیں حث اور ترغیب دیتا ہے کہ تم ہر ایک واقعہ اور ہر ایک امر کی جو تمہیں بتلایا گیا ہے پہلی اُمتوں میں نظیر تلاش کرو کہ وہاں سے تمہیں نظیر ملے گی۔اب ہم اس عقیدے کی نظیر کہ انسان دنیا سے جا کر پھر آسمان سے دوبارہ دنیا میں آسکتا ہے کہاں تلاش کریں اور کس کے پاس جا کر روویں کہ خدا کی گذشتہ عادات میں اس کا کوئی نمونہ بتلاؤ ؟ ہمارے مخالف مہربانی کر کے آپ ہی بتلاویں کہ اس قسم کا واقعہ کبھی پہلے بھی ہوا ہے اور کبھی پہلے بھی کوئی انسان ہزار دو ہزار برس تک آسمان پر رہا؟ اور پھر فرشتوں