تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 60
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۶۰ سورة النحل ہے کہ اس سے پہلے ایلیا آسمان سے دوبارہ نازل ہو گا مگر حضرت مسیح نے اس کی یہی تعبیر کی تھی کہ یہی شخص یعنی یوحنا ( یحیی ) ہی الیاس ہے اور یہ اس (الیاس) کی خوبو لے کر آیا ہے اسی کو ایلیا مان لو۔وہ آسمان سے دوبارہ نہیں آوے گا جس نے آنا تھا وہ آچکا۔چاہو ما نو چاہو نہ مانو۔غرض حضرت عیسی پر بھی یہ ایک مصیبت پڑ چکی تھی اور ان کا فیصلہ ہمارے اس مقدمہ کے لئے ایک دلیل ہو سکتا ہے۔اگر حضرت عیسی یہود کے مقابل میں حق پر تھے تو ہمارا معاملہ بھی صاف ہے ورنہ پہلے حضرت عیسی کی نبوت کا انکار کریں۔بعد میں ہمارا معاملہ الحکم جلدے نمبر ۱۷ مورخہ ۱۰ رمئی ۱۹۰۳، صفحہ ۱۶) آئے گا۔يَخَافُونَ رَبَّهُمْ مِنْ فَوْقِهِمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ دس ہزار صحابہ کو پہلی کتابوں میں ملائکہ لکھا ہے اور حقیقت میں ان کی شان ملائکہ ہی کی سی تھی۔انسانی قومی بھی ایک طرح پر ملائکہ ہی کا درجہ رکھتے ہیں کیونکہ جیسے ملائکہ کی یہ شان ہے کہ يَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ ای طرح پر انسانی قومی کا خاصہ ہے کہ جو حکم ان کو دیا جائے اس کی تعمیل کرتے ہیں۔ایسا ہی تمام قومی اور جوارح حکم انسانی کے نیچے ہیں۔الحکم جلد ۵ نمبر ۳۰ مورخه ۱۷ راگست ۱۹۰۱ء صفحه ۲) کمال عابد انسان کا یہی ہے کہ تَخَلَّقُوا بِأَخْلَاقِ الله - اللہ تعالیٰ کے اخلاق میں رنگین ہو جاوے۔جب تک اس مرتبہ تک نہ پہنچ جائے نہ تھکے نہ ہارے۔اس کے بعد خود ایک کشش اور جذب پیدا ہو جاتا ہے جو عبادت الہی کی طرف اُسے لئے جاتا ہے اور وہ حالت اس پر وارد ہو جاتی ہے جو يَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ کی ہوتی ہے۔الحکم جلد ۵ نمبر ۱۹ مورخه ۲۴ مئی ۱۹۰۱ صفحه ۴) ہماری طرف سے تو یہی نصیحت ہے کہ اپنے آپ کو عمدہ اور نیک نمونہ بنانے کی کوشش میں لگے رہو جب تک فرشتوں کی سی زندگی نہ بن جاوے تب تک کیسے کہا جا سکتا ہے کہ کوئی پاک ہو گیا۔يَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ فنا فی اللہ ہو جانا اور اپنے سب ارادوں اور خواہشات کو چھوڑ کر محض اللہ کے ارادوں اور احکام کا پابند ہو جانا چاہیے کہ اپنے واسطے بھی اور اپنی اولاد، بیوی، خویش و اقارب اور ہمارے واسطے بھی باعث رحمت بن جاؤ۔مخالفوں کے واسطے اعتراض کا موقع ہرگز ہرگز نہ دینا چاہیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ وَ مِنْهُمْ مُقْتَصِلٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالخَيِّرات - (الفاطر : ۳۳) پہلے دونوں صفات ادنی ہیں سابق بالخیرات بننا چاہیے ایک ہی مقام پر ٹھیر جانا کوئی اچھی صفت نہیں ہے۔(الحکم جلد ۱۲ نمبر ۱۶ مورخه ۲ مارچ ۱۹۰۸ صفحه ۶) ج