تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 44 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 44

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۴ سورة الحجر اس وسوسہ کا دل سے نہایت ہی کم تعلق ہوتا ہے گویا نہیں ہوتا۔یا یوں کہو کہ جیسا کہ دور سے کسی درخت کا سایہ بہت ہی خفیف سا پڑتا ہے ایسا ہی یہ وسوسہ ہوتا ہے اور ممکن ہے کہ شیطان لعین نے حضرت مسیح علیہ السلام کے دل میں اسی قسم کے خفیف وسوسہ کے ڈالنے کا ارادہ کیا ہو۔اور انہوں نے قوت نبوت سے اس وسوسہ کو دفع کر دیا ہو۔اور ہمیں یہ کہنا اس مجبوری سے پڑا ہے کہ یہ قصہ صرف انجیلوں میں ہی نہیں ہے بلکہ ہماری احادیث صحیحہ میں بھی ہے۔چنانچہ لکھا ہے۔۔۔۔۔طاؤس نے ابی ہریرہ سے کہا شیطان عیسی کے پاس آیا اور کہا کہ کیا تو گمان نہیں کرتا کہ تو سچا ہے۔اس نے کہا کہ کیوں نہیں شیطان نے کہا کہ اگر یہ بیچ ہے تو اس پہاڑ پر چڑھ جا اور پھر اس پر سے اپنے تئیں نیچے گرا دے۔حضرت عیسی نے کہا کہ تجھ پر واویلا ہوگیا تو نہیں جانتا کہ خدا نے فرمایا ہے کہ اپنی موت کے ساتھ میرا امتحان نہ کر کہ میں جو چاہتا ہوں کرتا ہوں۔اب ظاہر ہے کہ شیطان ایسی طرز سے آیا ہوگا جیسا کہ جبرائیل پیغمبروں کے پاس آتا ہے۔کیونکہ جبرائیل ایسا تو نہیں آتا جیسا کہ انسان کسی گاڑی میں بیٹھ کر یا کسی کرایہ کے گھوڑے پر سوار ہو کر اور پگڑی باندھ کر اور چادر اوڑھ کر آتا ہے بلکہ اس کا آنا عالم ثانی کے رنگ میں ہوتا ہے۔پھر شیطان جو کمتر اور ذلیل تر ہے کیوں کر انسانی طور پر کھلے کھلے آسکتا ہے۔اس تحقیق سے بہر حال اس بات کو ماننا پڑتا ہے جو ڈر بیپر نے بیان کی ہے لیکن یہ کہہ سکتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے قوت نبوت اور نور حقیت کے ساتھ شیطانی القا کو ہرگز ہرگز نزدیک آنے نہیں دیا اور اس کے ذب اور دفع میں فوراً مشغول ہو گئے۔اور جس طرح نور کے مقابل پر ظلمت ٹھہر نہیں سکتی اسی طرح شیطان ان کے مقابل پر ٹھہر نہیں سکا اور بھاگ گیا۔یہی اِن عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطن کے صحیح معنے ہیں۔کیونکہ شیطان کا سلطان یعنی تسلط در حقیقت ان پر ہے جو شیطانی وسوسہ اور الہام کو قبول کر لیتے ہیں۔لیکن جو لوگ دور سے نور کے تیر سے شیطان کو مجروح کرتے ہیں اور اس کے منہ پر زجر اور توبیخ کا جوتہ مارتے ہیں اور اپنے منہ سے وہ کچھ بکے جائے اس کی پیروی نہیں کرتے وہ شیطانی تسلط سے مستقلی ہیں مگر چونکہ ان کو خدا تعالیٰ مَلَكُوتِ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ (الاعراف : ۱۸۲) دکھانا چاہتا ہے اور شیطان مَلَكُوتِ الْأَرْضِ میں سے ہے اس لئے ضروری ہے کہ وہ مخلوقات کے مشاہدہ کا دائرہ پورا کرنے کے لئے اس عجیب الخلقت وجود کا چہرہ دیکھ لیں اور کلام سن لیں جس کا نام شیطان ہے اس سے ان کے دامن تنزہ اور عصمت کو کوئی داغ ( ضرورت الامام، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۴۸۴ تا۴۸۷) وہ لوگ جو اپنے صدق اور وفا اور عشق الہی میں کمال کے درجہ پر پہنچ جاتے ہیں اُن پر شیطان تسلط نہیں پا نہیں لگتا۔