تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 45
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۵ سکتا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطن - سورة الحجر (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۳، ۴) جس میں شیطان کا حصہ نہیں رہا اور وہ سفلی زندگی سے ایسا دور ہوا کہ گویا مر گیا اور راستباز اور وفادار بندہ بن گیا اور خدا کی طرف آ گیا اُس پر شیطان حملہ نہیں کر سکتا۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : إِنَّ عِبَادِی لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطن۔جو شیطان کے ہیں اور شیطان کی عادتیں اپنے اندر رکھتے ہیں انہیں کی طرف شیطان دوڑتا ہے کیونکہ وہ شیطان کے شکار ہیں۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۴۲) روح القدس کے فرزند تمام وہ سعادتمند اور راستباز ہیں جن کی نسبت إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سلطن وارد ہے۔قرآن کریم سے دو قسم کی مخلوق ثابت ہوتی ہے اول وہ جو روح القدس کے فرزند ہیں دوسرے وہ جو شیطان کے فرزند ہیں۔پس اس میں سیخ کی کوئی خصوصیت نہیں۔الحکم جلدے نمبر ۲۰ مورخه ۳۱ مئی ۱۹۰۳ صفحه ۳) لَهَا سَبْعَةُ أَبْوَاب لِكُلِّ بَابٍ مِنْهُمْ جُزْءٌ مَقْسُوم۔ایک روز یہ ذکر آ گیا ہے کہ دوزخ کے سات دروازے ہیں اور بہشت کے آٹھ۔اس کا کیا سر ہے۔تو ایک دفعہ ہی میرے دل میں ڈالا گیا کہ اصول جرائم بھی سات ہی ہیں اور نیکیوں کے اصول بھی سات۔بہشت کا جو آٹھواں دروازہ ہے وہ اللہ تعالیٰ کے فضل و رحمت کا دروازہ ہے۔دوزخ کے سات دروازوں کے جو اصول جرائم سات ہیں ان میں سے ایک بدظنی ہے۔بدظنی کے ذریعہ بھی انسان ہلاک ہوتا ہے اور تمام باطل پرست بدظنی سے گمراہ ہوئے ہیں۔دوسر اصول تکبر ہے۔تکبر کرنے والا اہل حق سے الگ رہتا ہے اور اسے سعادت مندوں کی طرح اقرار کی توفیق نہیں ملتی۔تیسرا اصول جہالت ہے یہ بھی ہلاک کرتی ہے۔چوتھا اصول اتباع ھوئی ہے۔پانچواں کورانہ تقلید ہے۔غرض اس طرح پر جرائم کے سات اصول ہیں اور یہ سب کے سب قرآن شریف سے مستنبط ہوتے ہیں خدا تعالیٰ نے ان دروازوں کا علم مجھے دیا ہے۔جو گناہ کوئی بتائے وہ ان کے نیچے آجاتا