تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 36 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 36

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۶ سورة الحجر۔رَحْمَةٌ مِنْ حَضْرَةِ الْكِبْرِيَاء ، وَيُجْعَلُ آدم کی اولاد کو روحانی زندگی بخشی جائے اور اس (شیطان) کو عَلَيْهِ هَزِيمَةٌ عُظمى كَمَا جُعِلَ عَلی بہت بڑی شکست دی جائے جیسے اس نے حضرت آدم کے ادَمَ فِي الْإِبْتِدَاءِ۔فَهُنَاكَ تُجزَى خلاف ابتداء میں کیا تھا تب اس وقت جان کا بدلہ جان اور النَّفْسُ بِالنَّفْسِ وَالْعِرْضُ بِالْعِرْضِ عزت کا بدلہ عزت ہوگا اور زمین اپنے رب کے نور سے منور ہو وَتُشْرِقُ الْأَرْضُ بِنُورِ رَيْهَا۔و ظہوتی جائے گی اور صفی اللہ ( آدم ) کا دشمن ہلاکت کے گڑھے میں گر وَ تَهْوِى عَدُوٌّ صَفِي اللهِ وَكَذَالِكَ جَزَاء عَدَاوَةِ جائے گا اور اصفیاء سے دشمنی کا نتیجہ ایسا ہی ہوا کرتا ہے۔یہ الْأَصْفِيَّاءِ وَكَانَ هَذَا الْفَتْحُ حَقًّا فتح حضرت آدم کے لئے بطور حق کے واجب ہوگی کیونکہ واجبًا لأدَمَ مَا أَذَلَّهُ الشَّيْطانُ فی شیطان نے اژدھے کی شکل میں ان کو پھسلایا تھا اور ذلت حِلْيَةِ القُعْبَانِ، وَأَلْقَاهُ في مَغَارَةِ کے گڑھے میں گرا دیا تھا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت الْهَوَانِ وَهَدَّمَ بَعْدَ مَا أَعَزّهُ اللهُ آدم کو عزت و اکرام ملنے کے بعد شیطان نے انہیں ذلیل وَأَكْرَمَ۔وَمَا قَصَدَ إِبْلِيسُ إِلَّا قَتْلَهُ کرنے کی کوشش کی تھی اور ابلیس کا مقصد تو حضرت آدم کوقتل، وَإِهْلَاكَهُ وَاسْتيْصَالَهُ وَأَرَادَ أَن بلاک اور برباد کرنا تھا اور اس کا ارادہ تو یہ تھا کہ اسے اور اس کی يَعْدِمَهُ وَذُرِّيَّتَهُ وَالَهُ، فَكُتِبَ عَلَيْهِ اولاد اور جماعت کو نیست و نابود کر دے۔پس شیطان کے حُكْمُ الْقَتْلِ مِنْ دِيوَانِ قَضَاءِ بارہ میں اس کے ایام مہلت کے بعد اللہ تعالیٰ کے دفتر سے الْحَضْرَةِ بَعْدَ أَيَّامِ الْمُهْلَةِ، وَإِلَيْهِ أَشَارَ اس کے قتل کا فرمان جاری ہوا اور اللہ تعالیٰ کے قول : إلى يَوْمِ سُبْحَانَهُ فِي قَوْلِهِ إِلى يَوْمِ يُبْعَثُونَ يُبْعَثُونَ میں اس طرف اشارہ ہے جیسا کہ تدبر کرنے والے كَمَا يَعْلَمُهُ الْمُتَدَبَّرُونَ وَمَا عُنِى جانتے ہیں۔پس اللہ تعالی کے قول: إِلى يَوْمِ يُبْعَثُونَ سے هذَا الْقَوْلِ بَعْثُ الْأَمْوَاتِ بَلْ أُرِيْد مراد جسمانی مردوں کا اٹھایا جانا نہیں بلکہ اس سے گمراہ فِيهِ بَعْتُ الضَّالِّينَ بَعْد الضَّلالات لوگوں کا اپنی گمراہیوں کے بعد اُٹھایا جانا ( یعنی ہدایت پانا ) وَيُؤَيَّدُهُ قَوْلُهُ تَعَالَى فِي الْقُرانِ مراد ہے اس کی تائید قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کے اپنے قول : لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِهِ ، كَمَا لَا لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ محلہ سے بھی ہوتی ہے جیسا کہ اہل علم يَخْفَى عَلَى أَهْلِ الْعَقْلِ وَالْعِرْفَانِ۔فَإِنَّ دانشمندوں پر یہ بات مخفی نہیں کیونکہ دینِ اسلام کا باقی ادیان لے ،، إِظْهَارَ الدِّينَ عَلَى أَدْيَانِ أُخْرى، لا پر غالب آنا پخته دلائل اور براہین قاطعہ نیز صلاحیت رکھنے الاعراف : ۱۵ الصف : ١٠