تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 37
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۷ سورة الحجر يَتَحَقِّقُ إِلَّا بِالْبَيِّنَةِ الكُبرى، والحجج والے اور تقویٰ پر گامزن وجودوں کی کثرت سے متفق الْقَاطِعَةِ الْعُظمى وَكَثْرَةِ أَهْلِ الصَّلاحِ ہو سکتا ہے۔بلاشبہ وہ دین جو یقین کی معراج تک پہنچا وَالتَّقْوَى وَلا شَكَ أَنَّ الدِّينَ الَّذِى يُعْطى دینے والے دلائل پیش کرتا ہے اور لوگوں کا کماحقہ الثَّلَائِلَ الْمُوْصِلَةَ إِلَى الْيَقِينِ وَيُزى تزکیہ کرتا اور شیطان لعین کی گرفت سے ان کو آزاد کرتا التُفُوسَ حَقَّ التّركِيَةِ وَيُنَجِنِهِمْ مِنْ أَيْدِی ہے۔وہی دین فوقیت رکھنے والا اور سب دینوں پر الشَّيْطَانِ اللعِيْنِ هُوَ الدّين الظَّاهِرُ الْغَالِبُ غالب ہے۔اور وہی ہے جو مردوں کو شک اور نافرمانی عَلَى الْأَدْيَان وَهُوَ الَّذِي يَبْعَثُ الْأَمْوَات مِن کی قبروں سے اٹھاتا ہے اور انہیں خدائے منان کے قُبُورِ الشَّكِ وَالْعِصْيَانِ، وَيُحْيِنِهِم عِلْمًا فضل کے ذریعہ سے علم و عمل کے لحاظ سے زندگی بخشا وَعَمَلًا بِفَضْلِ اللهِ الْمَنَانِ وَكَانَ اللهُ قَدْ قَدَّرَ ہے۔اللہ تعالیٰ نے یہ امر مقدر فرمایا تھا کہ اس کا دین أَنَّ دِينَهُ لا يَظْهَرُ بِظُهُورٍ تَامّ عَلَى الْأَدْيَانِ دینِ اسلام) تمام ادیان پر غالب نہیں آئے گا اور كُلِّهَا وَلَا يُرْزَقُ أَكْثَرُ الْقُلُوبِ دَلَائِلَ الْحَقِّ، نہ ہی بہت سے دلوں کو دلائلِ حقہ عطا کرے گا اور نہ وَلَا يُعْطَى تَقْوَى الْبَاطِنِ لأَكْثَرِهَا إِلَّا في ہی اکثر قلوب میں باطنی تقویٰ پیدا کرے گا مگر مسیح زَمَانِ الْمَسِيحَ الْمَوْعُوْدِ وَالْمَهْدِي الْمَعْهُودِ موعود اور مہدی معہود کے زمانہ میں۔باقی وہ صدیاں وَأَمَّا الْأَزْمِنَةُ الَّتِي هِيَ قَبْلَهُ فَلَا تَعُمُّ فِيهَا جو اس سے پہلے ہیں ان میں تقومی اور علم و عرفان عام التَّقْوَى وَلَا الدّرَايَةُ، بَلْ يَكْثُرُ الْفِسْقُ نہیں ہوگا بلکہ فسق و فجور اور گمراہی بڑھتی رہے گی۔وَالْغَوَايَةُ فَالْحَاصِل أَنَّ الْهِدَايَةَ الْوَسِيعَةَ پس خلاصہ کلام یہ ہے کہ عام اور وسیع ہدایت اور دلائل الْعَامَّةَ وَالْحُجَجَ الْقَاطِعَةَ التَّامَّةَ تَختَصُّ تامه قاطعہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسیح موعود کے زمانہ بِزَمَانِ الْمَسِيحَ الْمَوْعُوْدِ مِنَ الْحَضْرَةِ، وَعِنْدَ سے مختص ہیں اور اس زمانہ میں مخفی حقیقتیں منکشف ہو ذَالِكَ الزَّمَانِ تَنْكَشِفُ الْحَقَائِقُ الْمُسْتَتِرَةُ جائیں گی اور حقیقت حال واضح ہو جائے گی اور وَتُكْشَفُ عَنْ سَاقِ الْحَقِيقَةِ، وَمُهْلك الملل جھوٹے دین اور باطل مذاہب ہلاک ہو جائیں گے۔الْبَاطِلَةُ وَالْمَذَاهِبُ الْكَاذِبَةُ، وتملك نیز یه که اسلام مشرق و مغرب میں غالب آجائے گا اور الإسْلامُ الشّرْق وَالغَرْب وَيَدْخُلُ الْحَقُّى حق ہر گھر میں داخل ہو جائے گا بجز تھوڑے سے كُل دَارٍ إِلَّا قَلِيلٌ مِنَ الْمُجْرِمِينَ، وَيَتِمُّ مجرموں کے گھروں کے۔اس وقت دین کا معاملہ