تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 35 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 35

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام لے ۳۵ سورة الحجر إلى يَوْمِ الْوَقْتِ المَعلُومِ : يَعْنِي يَوْمَ الْوَقْتِ المَعْلُوم یعنی تجھے اس وقت تک مہلت دی جاتی ہے الْبَعْدِ الَّذِي يُبْعَثُ النَّاسُ فِيْهِ بَعْدَ جب لوگ گمراہی کی موت کے بعد خدائے حی و قیوم کے مَوْتِ الضَّلَالَةِ بِإِذْنِ الْحَى الْقَوْمِ وَلَا اذن سے دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔حقیقت میں یہ دن شَكَ أَنَّ هَذَا الْيَوْمَ يَوْمَ تُشَابِهُ يَوْمَ حضرت آدم کی پیدائش کے دن سے مشابہت رکھتا ہے اس خَلْقَةِ آدَمَ مَا أَرَادَ اللهُ فِيهِ أَن تخلق وجہ سے کہ اللہ نے آج ارادہ فرمایا ہے کہ مثیل آدم کو پیدا مَهِيلٌ آدَمَ ثُمَّ يَبُثُّ فِي الْأَرْضِ ذُرِّيَّةَ کرے اور روئے زمین پر اس کی روحانی اولا د کو پھیلا دے الرُّوحَانِيَّةِ وَيَجْعَلَهُمْ فَوْقَ كُلِّ مَنْ اور ان تمام لوگوں پر ان کو غالب کرے جو اللہ تعالیٰ سے کٹ قُطِعَ مِنَ اللهِ وَتَجَنَّمَ وَاشْتَدَّتِ الْحَاجَةُ گئے اور اس سے علیحدہ ہو گئے اور آخری زمانہ میں آدم ثانی إلى أدَمِ الثَّانِي فِي آخِرِ الزَّمَانِ کی اشد ضرورت پیدا ہوگئی تا کہ پہلے زمانہ میں جو کوتا ہی ليَتَدَارَكَ مَا فَاتَ في أَوَّلِ الْأَوَانِ ہوئی ہے اس کی تلافی کرے اور شیطان کے بارہ میں وَلِيَتِمَّ وَعِيْدُ اللهِ فِي الشَّيْطَانِ فَإِنَّ اللہ تعالیٰ کی وعید پوری ہو اسی لئے اللہ تعالیٰ نے دنیا کے آخر الله جَعَلَهُ مِنَ الْمُنظَرِينَ إلى آخر تک شیطان کو مہلت پانے والوں میں قرار دیا اور اشارہ کیا الدُّنْيَا وَأَشَارَ فِيهِ إلى اهلا یہ کہ وہ اس وقت ہلاک کیا جائے گا اور اپنی قوتوں سے محروم وَإِخْرَاجِه مِنْ أَمْلاكِهِ، وَمَا مَعْنَی کیا جائے گا اور مہلت دینے کے معنے سوائے اس کے کچھ الْإِنْطَارِ مِنْ غَيْرِ وَعِيْدِ الْقَتْلِ بَعْدَ نہیں کہ عرصہ مہات اور ملکوں میں اس کے فساد پھیلانے کے أَيَّامِ الْإِمْهَالِ وَعَيْنِهِ فِي الرِّيَارِ : وَكَانَ بعد اس کے قتل کی وعید سے سنائی جائے۔اور اس کا یہ ہلاک الإهلاك جَزَاءة بما أَهْلَكَ النَّاسُ کیا جانا اس کا لوگوں کو بڑے فتنوں سے ہلاک کرنے کا بدلہ بِالْفِتَنِ الْكُبَارِ۔وَكَانَ الْأَلْفُ السَّابِعُ ہے پس ساتواں ہزار اس کے قتل کی معین مدت ہے اس نے لِقَبْلِهِ أَجَلًا مُّسَمًّى فَإِنَّهُ أَدْخَلَ النَّاسَ بھی لوگوں کو جہنم میں اس کے سات دروازوں سے داخل کیا في جَهَنَّمَ مِنْ سَبْعَةِ أَبْوَابِهَا وَوَفَّى حَتَّی اور اندھا بنانے کا حق پورا کر دیا۔پس ساتویں ہزار کو ان الْعَمَى، فَالسَّابِحُ لِهَذِهِ السَّبْعَةِ أَنْسَبُ سات دروازوں کے ساتھ زیادہ مناسبت اور موافقت ہے وَأَوْفَى۔وَكَتَبَ اللهُ أَنَّهُ يُقْتَلُ فِي اخر اور اللہ تعالیٰ نے یہ مقدر فرما دیا تھا کہ شیطان کو دنیا کے آخری حِصّةِ الدُّنْيَا، وَيُحْيِي هُنَاكَ أَبْنَاءُ ادم ایام میں قتل کیا جائے اور بارگاہ رب العزت کی طرف سے الحجر : ٣٩،٣٨