تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 23 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 23

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۳ سورة الحجر عظمت کو قائم کرنے کے لئے چودھویں صدی کے سر پر مجھے بھیجا ہے۔الحکم جلد ۵ نمبر ۳ مورخه ۲۴/جنوری ۱۹۰۱ صفحه ۵) خدا تعالی کی تائید میں اور نصرتیں جو ہمارے شامل حال ہیں یہ آج کسی مذہب کے پیرو کو نصیب نہیں اور ہم دعوی سے کہتے ہیں کہ کیا کوئی اہل مذہب ہے جو اسلام کے سوا اپنے مذہب کی حقانیت پر تائیدی اور سمادی نشان پیش کر سکے۔خدا تعالیٰ نے یہ سلسلہ جو قائم کیا ہے یہ اس حفاظت کے وعدہ کے موافق ہے جو اس نے إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحفِظُونَ میں کیا ہے۔الحکم جلد ۵ نمبر ۲۵ مورخہ ۱۰ ر جولائی ۱۹۰۱ صفحه ۲) بیشک آج وہ حالت اسلام کی ہو گئی تھی کہ اس کے مٹنے میں کوئی بھی شبہ نہیں ہو سکتا تھا مگر اللہ تعالیٰ کی غیرت نے جوش مارا اور اس کی رحمت اور وعدہ حفاظت نے تقاضا کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بروز کو پھر نازل کرے اور وہ اس زمانہ میں آپ کی نبوت کو نئے سرے سے زندہ کر کے دکھا وے چنانچہ اس نے اس سلسلہ کو قائم کیا اور مجھے مامور اور مہدی بنا کر بھیجا۔۔۔۔چونکہ اس نے وعدہ کیا ہوا تھا إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذكر وإنا له لحفظون۔یہ وعدہ حفاظت چاہتا تھا کہ جب غارت گری کا موقع ہو تو وہ خبر لے۔چوکیدار کا کام ہے کہ وہ نقب دینے والوں کو پوچھتے ہیں اور دوسرے جرائم والوں کو دیکھ کر اپنے منصبی فرائض عمل میں لاتے ہیں۔اسی طرح پر آج چونکہ فتن جمع ہو گئے تھے اور اسلام کے قلعہ پر ہر قسم کے مخالف ہتھیار باندھ کر حملہ کرنے کو طیار ہو گئے تھے اس لئے خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ منہاج نبوت قائم کرے یہ مواد اسلام کی مخالفت کے دراصل ایک عرصہ دراز سے پک رہے تھے اور آخراب پھوٹ نکلے جیسے ابتدا میں نطفہ ہوتا ہے اور پھر ایک عرصہ مقررہ کے بعد بچہ بن کر نکلتا ہے اسی طرح پر اسلام کی مخالفت کے بچہ کا خروج ہو چکا ہے اور اب وہ بالغ ہو کر پورے جوش اور قوت میں ہے اس لئے اس کو تباہ کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے آسمان سے ایک حربہ نازل کیا اور اس مکروہ شرک کو جو اندرونی اور بیرونی طور پر پیدا ہو گیا تھا دور کرنے کے لئے اور پھر ا خدا تعالیٰ کی توحید اور جلال قائم کرنے کے واسطے اس سلسلہ کو قائم کیا ہے۔یہ سلسلہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور میں بڑے دعوئی اور بصیرت سے کہتا ہوں کہ بے شک یہ خدا کی طرف سے ہے۔اس نے اپنے ہاتھ سے اس کو قائم کیا ہے جیسا کہ اس نے اپنی تائیدوں اور نصرتوں سے جو اس سلسلہ کے لئے اس نے ظاہر کی