تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 22 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 22

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۲۲ سورة الحجر قرآن کریم کا نام ذکر رکھا گیا ہے اس لئے کہ وہ انسان کی اندرونی شریعت یاد دلاتا ہے۔جب اسم فاعل کو مصدر کی صورت میں لاتے ہیں تو وہ مبالغہ کا کام دیتا ہے جیسا زید عدل۔کیا معنے۔زید بہت عادل ہے۔قرآن کوئی نئی تعلیم نہیں لایا بلکہ اس اندرونی شریعت کو یاد دلاتا ہے جو انسان کے اندر مختلف طاقتوں کی صورت میں رکھی ہے، علم ہے، ایثار ہے، شجاعت ہے، جبر ہے، غضب ہے، قناعت ہے وغیرہ۔غرض جو فطرت باطن میں رکھی تھی قرآن نے اسے یاد دلایا جیسے في كتب مكنون ( الواقعة : ۷۹) یعنی صحیفہ فطرت میں کہ جو چھپی ہوئی کتاب تھی اور جس کو ہر ایک شخص نہ دیکھ سکتا تھا۔اسی طرح اس کتاب کا نام ذکر بیان کیا تا کہ وہ پڑھی جاوے تو وہ اندرونی اور روحانی قوتوں اور اس نور قلب کو جو آسمانی ودیعت انسان کے اندر ہے یاد دلا دے۔رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۹۴) قرآن کریم جس کا دوسرا نام ذکر ہے اس ابتدائی زمانہ میں انسان کے اندر چھپی ہوئی اور فراموش ہوئی ہوئی صداقتوں اور ودیعتوں کو یاد دلانے کے لئے آیا تھا۔اللہ تعالیٰ کے اس وعدہ واثقہ کی رو سے کہ انا له لحفظون اس زمانہ میں بھی آسمان سے ایک معلم آیا جو آخَرِينَ مِنْهُم لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ ( الجمعة : ٢) كا مصداق اور موعود ہے۔وہ وہی ہے جو تمہارے درمیان بول رہا ہے۔(رپورٹ جلسه سالانه ۱۸۹۷ صفحه ۹۵) اللہ تعالیٰ نے جو نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحفِظُونَ کا وعدہ دے کر قرآن اور اسلام کی حفاظت کا خود ذمہ وار ہوتا ہے مسلمانوں کو اس مصیبت سے بچالیا اور فتنہ میں پڑنے نہ دیا۔پس مبارک ہیں وہ لوگ جو اس سلسلہ کی قدر کرتے اور اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۹۳) ایک بارش تخم ریزی کے لئے ہوتی ہے اور پھر ایک بارش اس تخم کے نشو ونما اور سرسبزی کے لئے ہوتی ہے۔اسی طرح پر نبوت کی بارش تخم ریزی کے لئے ہوتی ہے اور محدثین اور مجددین کی بارش جو نَحْنُ نَزَّلْنَا الذكر وإنا له لحفظون کے ضمن میں داخل ہیں اس قسم کے بارور کرنے اور نشو و نما دینے کے لئے۔الحکم جلد ۵ نمبر ۲۱ مورخه ۰ ارجون ۱۹۰۱ صفحه ۴) اسلام کی حفاظت کا ذمہ اسی حتی و قیوم خدا نے انا له لحفظون کہہ کر اٹھایا ہوا ہے پس ہر زمانہ میں یہ دین زندوں سے زندگی پاتا ہے اور مردوں کو جلاتا ہے۔یا درکھو اس میں قدم قدم پر زندے آتے ہیں۔الحکم جلد ۶ نمبر ۲۶ مورخہ ۲۴ جولائی ۱۹۰۲ صفحه ۸) اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے موافق کہ اِنّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحفِظُونَ قرآن شریف کی