تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 21 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 21

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۱ سورة الحجر إنا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذكر وإنا له لحفظون یہ بھی مسیح موعود کے زمانہ کی طرف اشارہ ہے۔اور قرآن شریف کی رو سے مسیح موعود کے زمانہ کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ سے مشابہت ہے۔عقلمندوں کے لئے جو تدبر کرتے ہیں یہ ثبوت قرآنی تسلی بخش ہے۔اور اگر کسی نادان کی نظر میں یہ کافی نہیں ہیں تو پھر اس کو اقرار کرنا چاہئے کہ تو رات میں نہ حضرت عیسی علیہ السلام کی نسبت کوئی پیشگوئی ہے نہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کوئی پیش خبری ہے کیونکہ وہ الفاظ بھی محض مجمل ہیں۔اور اسی وجہ سے یہودیوں کو ٹھوکر لگی اور قبول نہ کیا۔۔۔۔۔انبیاء کی نسبت جو پیشگوئیاں ہوتی ہیں وہ ہمیشہ باریک ہوتی ہیں تاشقی اور سعید میں فرق ظاہر لیکھر لاہور، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۱۸۷، ۱۸۸) ہو جاوے۔اللہ تعالیٰ کی قدیم سے یہ عادت ہے کہ جب ایک قوم کو کسی فعل سے منع کرتا ہے تو ضرور اس کی تقدیر میں یہ ہوتا ہے کہ بعض ان میں سے اس فعل کے ضرور مرتکب ہوں گے جیسا کہ اُس نے توریت میں یہودیوں کو منع کیا تھا کہ تم نے توریت اور دوسری خدا کی کتابوں کی تحریف نہ کرنا۔سو آخر اُن میں سے بعض نے تحریف کی مگر قرآن میں یہ نہیں کہا گیا کہ تم نے قرآن کی تحریف نہ کرنا بلکہ یہ کہا گیا إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ إِنَّا لَهُ ( نزول مسیح ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۴۱۹) لحفِظُونَ - اگر خدا کو یہ منظور ہوتا کہ اسلام ہلاک ہو جاوے اور اندرونی اور بیرونی بلائیں اسے کھا جاویں تو وہ کسی کو پیدا نہ کرتا اس کا وعدہ اِنا نَحْنُ نَزَلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحفِظُونَ کا کہاں گیا۔اول تو تاڑ تاڑ مجد دآئے مگر جب مسلمانوں کی حالت تنزل میں ہوئی بد اطواری ترقی کرتی جاتی ہے۔سعادت کا مادہ ان میں نہ رہا اور اسلام غرق ہونے لگا تو خدا نے ہاتھ اٹھا لیا۔جب کہو تو یہی جواب ہے کہ حدیثوں میں لکھا ہے کہ تیس دجال آویں گے یہ بھی ایک دجال ہے۔البدر جلد ۲ نمبر ۸ مورخه ۱۳ / مارچ ۱۹۰۳ء صفحه ۶۰) احادیث کے اوپر نہ تو خدا کی مہر ہے نہ رسول اللہ صلعم کی اور قرآن شریف کی نسبت خدا تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحفِظُونَ اس لئے ہمارا یہ مذہب ہے کہ قرآن شریف سے معارض نہ ہونے کی حالت میں ضعیف سے ضعیف حدیث پر بھی عمل کیا جاوے لیکن اگر کوئی قصہ جو کہ قرآن شریف میں مذکور ہے اور حدیث میں اس کے خلاف پایا جاوے مثلاً قرآن میں لکھا ہے کہ اسحاق ابراہیم کے بیٹے تھے اور حدیث میں لکھا ہوا ہو کہ وہ نہیں تھے تو ایسی صورت میں حدیث پر کیسے اعتماد ہوسکتا ہے۔( البدر جلد ۲ نمبر ۳۹ مورخه ۱۶/اکتوبر ۱۹۰۳ ء صفحه ۳۰۶)