تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 20
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۰ سورة الحجر - ترجموں کے بہانہ سے تحریف معنوی کا ارادہ کیا ہے اور بہتوں نے اس بات پر زوردیا کہ قرآن اکثر جگہ میں علوم عقلیہ اور مسائل مسلّمہ مثبتہ طبعی اور ہیئت کے مخالف ہے اور نیز یہ کہ بہت سے دعاوی اس کے عقلی تحقیقاتوں کے برعکس ہیں اور نیز یہ کہ اس کی تعلیم جبر اور ظلم اور بے اعتدالی اور نا انصافی کے طریقوں کو سکھاتی ہے۔اور نیز یہ کہ بہت سی باتیں اس کی صفات الہیہ کے مخالف اور قانون قدرت اور صحیفہ فطرت کے منافی ہیں۔اور بہتوں نے پادریوں اور آریوں میں سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات اور قرآن کریم کے نشانوں اور پیشگوئیوں سے نہایت درجہ کے اصرار سے انکار کیا اور خدا تعالیٰ کی پاک کلام اور دین اسلام اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ایسی صورت بھینچ کر دکھلائی اور اس قدر افتر ا سے کام لیا جس سے ہر ایک حق کا طالب خواہ نخواہ نفرت کرے۔لہذا اب یہ زمانہ ایسا زمانہ تھا کہ جو طبعا چاہتا تھا کہ جیسا کہ مخالفوں کے فتنہ کا سیلاب بڑے زور سے چاروں پہلوؤں پر حملہ کرنے کے لئے اُٹھا ہے ایسا ہی مدافعت بھی چاروں پہلوؤں کے لحاظ سے ہو۔اور اس عرصہ میں چودھویں صدی کا آغاز بھی ہو گیا۔اس لئے خدا نے چودھویں صدی کے سر پر اپنے وعدہ کے موافق جو اِنا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذكر وإنا له لحفِظُونَ ہے اس فتنہ کی اصلاح کے لئے ایک مجدد بھیجا۔مگر چونکہ ہر ایک مجدد کا خدا تعالیٰ کے نزدیک ایک خاص نام ہے اور جیسا کہ ایک شخص جب ایک کتاب تالیف کرتا ہے تو اس کے مضامین کے مناسب حال اس کتاب کا نام رکھ دیتا ہے ایسا ہی خدا تعالی نے اس مجدد کا نام خدمات مفوضہ کے مناسب حال مسیح رکھا۔کیونکہ یہ بات مقرر ہو چکی تھی کہ آخر الزمان کے صلیبی فتنوں کی مسیح اصلاح کرے گا۔پس جس شخص کو یہ اصلاح سپر دہوئی ضرور تھا کہ اس کا نام سیح موعود رکھا جائے۔پس سوچو کہ تکسیر الصليب کی خدمت کس کو سپرد ہے؟ اور کیا اب یہ وہی زمانہ ہے یا کوئی اور ہے؟ سوچو خدا تمہیں تھام لے۔ایام الصلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۲۸۸ تا ۲۹۰) ( یہ آیت ) صاف بتلا رہی ہے کہ جب ایک قوم پیدا ہوگی کہ اس ذکر کو دنیا سے مٹانا چاہے گی تو اس وقت خدا آسمان سے اپنے کسی فرستادہ کے ذریعہ سے اس کی حفاظت کرے گا۔(تحفہ گولڑویہ ، روحانی خزائن جلد ۱۷، صفحہ ۲۶۷ حاشیہ ) ہم نے ہی قرآن شریف کو اُتارا اور ہم ہی اس کی محافظت کریں گے۔اسی وجہ سے قرآن شریف تحریف سے محفوظ رہا۔(تذکرۃ الشہادتین ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۱۴) لے بہتوں نے اپنی تفسیروں میں اسرائیلی بے اصل روایتیں لکھ کر ایک دنیا کو دھوکہ دیا ہے۔منہ