تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 391 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 391

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۹۱ سورة الحج ۱۳ تھے اور ان مظلوموں کا خون اُن کی گردن پر تھا اور درحقیقت وہ سب اس گناہ میں شریک تھے کیونکہ بعض قاتل اور بعض ہمراز اور بعض اُن کے معاون تھے اس وجہ سے وہ لوگ خدا کے نزدیک قتل کے لائق تھے کیونکہ اُن کی اس قسم کی شرارتیں حد سے گزر گئی تھیں۔علاوہ اس کے سب سے بڑا گناہ اُن کا یہ تھا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اقدام قتل کے مرتکب تھے اور انہوں نے پختہ ارادہ کیا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوقتل کر دیں پس ان گناہوں کی وجہ سے وہ خدا کی نظر میں واجب القتل ٹھہر چکے تھے اور اُن کا قتل کرنا مین انصاف تھا کیونکہ وہ جرم قتل اور اقدام قتل کے مرتکب ہو چکے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو برابر تیر برس اُن میں رہ کر وعظ کرتے رہے اور نیز آسمانی نشان دکھلاتے رہے اس صورت میں خدا کی حجت اُن پر پوری ہو چکی تھی اس وجہ سے خدا نے جو رحیم و کریم ہے اُن کی نسبت یہ حکم دیا تھا کہ وہ اگر چہ اپنے جرائم کی وجہ سے بہر حال قتل کرنے کے لائق ہیں لیکن اگر کوئی اُن میں سے خدا کی کلام کو سن کر اسلام قبول کرے تو یہ قصاص اس کو معاف کیا جاوے ورنہ اپنے گناہوں کی سزا میں جو قتل اور اقدام قتل ہے وہ بھی قتل کئے جائیں گے اب بتلاؤ کہ اس میں کون سا جبر ہے؟ جس حالت میں وہ لوگ جرم قتل اور اقدام قتل کی وجہ سے بہر حال قتل کے لائق تھے اور یہ رعایت قرآن شریف نے اُن کو دی کہ اسلام لانے کی حالت میں وہ قصاص دور ہو سکتا ہے تو اس میں جبر کیا ہوا؟ اور اگر یہ رعایت نہ دی جاتی تو ان کا قتل کرنا بہر حال ضروری تھا کیونکہ وہ قاتل اور اقدام قتل کے مرتکب تھے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے أذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَ إِنَّ اللهَ عَلَى نَصْرِهِمُ القَدِير يعنى هم اُن لوگوں کو جو نا حق قتل کئے جاتے ہیں اجازت دیتے ہیں کہ اب وہ بھی قاتلوں کا مقابلہ کریں یعنی ایک مدت تک تو مومنوں کو مقابلہ کی اجازت نہیں دی گئی تھی اور وہ مدت تیر کو برس تھی اور جب بہت سے مومن قتل ہو چکے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اقدام قتل کے بھی کافر لوگ مر تکب ہوئے تب تیرہ برس کے مصائب اٹھانے کے بعد مقابلہ کی اجازت دی گئی۔چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۳۳، ۲۳۴) اللہ تعالیٰ بعض مصالح کے رو سے ایک فعل کرتا ہے اور آئندہ جب وہ فعل معرض اعتراض ٹھہرتا ہے تو پھر وہ فعل نہیں کرتا۔اولاً ہمارے رسول نے کوئی تلوار نہ اٹھائی مگر ان کو سخت سے سخت تکالیف برداشت کرنی پڑیں۔تیرہ سال کا عرصہ ایک بچہ کو بالغ کرنے کے لئے کافی ہے اور مسیح کی میعاد تو اگر اس میعاد میں سے دس نکال دیں تو بھی کافی ہوتی ہے۔غرض اس لمبے عرصہ میں کوئی یا کسی رنگ کی تکلیف نہ تھی جو اٹھانی نہ پڑے۔