تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 392
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۹۲ سورة الحج آخر کا ر وطن سے نکلے تو تعاقب ہوا۔دوسری جگہ پناہ لی تو دشمن نے وہاں بھی نہ چھوڑا۔جب یہ حالت ہوئی تو مظلوموں کو ظالموں کے ظلم سے بچانے کے لئے حکم ہوا اذنَ لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرُ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقَّ إِلَّا أَنْ يَقُولُوا رَبُّنَا اللهُ جن لوگوں کے ساتھ لڑائیاں خواہ مخواہ کی گئیں اور گھروں سے ناحق نکالے گئے صرف اس لئے کہ انہوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے۔سو یہ ضرورت تھی کہ تلوار اٹھائی گئی۔والا حضرت کبھی تلوار نہ اٹھاتے۔ہاں ہمارے زمانہ میں ہمارے بر خلاف قلم اٹھائی گئی۔قلم سے ہم کو اذیت دی گئی اور سخت ستا یا گیا ان کے مقابل قلم ہی ہمارا حربہ بھی ہے۔رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۵۶،۵۵) (آنحضرت کے زمانے میں ) اسلام کی لڑائیاں ڈیفنسو ( دفاعی ) تھیں اور وہ صرف دس سال ہی کے اندر ختم ہو گئیں۔احکم جلد ۳ نمبر امورخه ۱۰/جنوری ۱۸۹۹ صفحه ۸) ابتدائے اسلام میں دفاعی لڑائیوں اور جسمانی جنگوں کی اس لئے بھی ضرورت پڑتی تھی کہ دعوت اسلام کرنے والے کا جواب ان دنوں دلائل و براہین سے نہیں بلکہ تلوار سے دیا جاتا تھا اس لئے لاچار جواب الجواب میں تلوار سے کام لینا پڑا لیکن اب تلوار سے جواب نہیں دیا جاتا بلکہ قلم اور دلائل سے اسلام پر نکتہ چینیاں کی جاتی ہیں یہی وجہ ہے کہ اس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے چاہا ہے کہ سیف ( تلوار ) کا کام قلم سے لیا جاوے اور تحریر سے مقابلہ کر کے مخالفوں کو پست کیا جاوے اس لئے اب کسی کو شایاں نہیں کہ قلم کا جواب تلوار سے دینے کی کوشش کرے۔گر حفظ مراتب نہ کنی زندیقی رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۶۸) اسلام کا کبھی ایسا منشاء نہ تھا کہ بے مطلب اور بلاضرورت تلوار اٹھائی جاوے۔رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ صفحه ۶۹) اسلام کی نسبت جو کہتے ہیں کہ تلوار سے پھیلا یہ بالکل غلط ہے۔اسلام نے تلوار اس وقت تک نہیں اُٹھائی جب تک سامنے تلوار نہیں دیکھی۔قرآن شریف میں صاف لکھا ہے کہ جس قسم کے ہتھیاروں سے دشمن اسلام پر حملہ کرے اسی قسم کے ہتھیار استعمال کرو۔مہدی کے لئے کہتے ہیں کہ آکر تلوار سے کام لے گا یہ میچ نہیں۔اب تلوار کہاں ہے؟ جو تلوار نکالی جاوے۔احکام جلد ۱۲ نمبر ۴۴ مورخه ۲۶ جولائی ۱۹۰۸ صفحه ۳)