تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 390
۳۹۰ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الحج تاثیرات ختم نہیں ہوگئی ہیں بلکہ ہمیشہ اور ہر زمانہ میں تازہ بتازہ موجود رہتی ہیں اور یہی وجہ ہے جو میں کہتا ہوں کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم زندہ نبی ہیں۔اس لئے کہ آپ کی تعلیمات اور ہدایات ہمیشہ اپنے شمرات دیتی رہتی ہیں۔اور آئندہ جب اسلام ترقی کرے گا تو اس کی یہی راہ ہوگی نہ کوئی اور۔پس جب اسلام کی اشاعت کے لئے کبھی تلوار نہیں اُٹھائی گئی تو اس وقت ایسا خیال بھی کرنا گناہ ہے۔کیونکہ اب تو سب کے سب امن سے بیٹھے ہوئے ہیں اور اپنے مذہب کی اشاعت کے لئے کافی ذریعے اور سامان موجود ہیں۔مجھے بڑے ہی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ عیسائیوں اور دوسرے معترضین نے اسلام پر حملہ کرتے وقت ہرگز ہرگز اصلیت پر غور نہیں کیا۔وہ دیکھتے کہ اُس وقت تمام مخالف اسلام اور مسلمانوں کے استیصال کے در پے تھے اور سب کے سب مل کر اس کے خلاف منصوبے کرتے اور مسلمانوں کو دکھ دیتے تھے۔ان دکھوں اور تکلیفوں کے مقابلہ میں اگر وہ اپنی جان نہ بچاتے تو کیا کرتے۔قرآن شریف میں یہ آیت موجود ہے اذن لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حکم اُس وقت دیا گیا جبکہ مسلمانوں پر ظلم کی حد ہو گئی تو انہیں مقابلہ کا حکم دیا گیا۔اُس وقت کی یہ اجازت تھی دوسرے وقت کے لئے یہ حکم نہ تھا۔لیکچر لدھیانہ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۲۷۲ تا ۲۷۴) قرآن شریف نے ظلم اور زیادتی کی تعلیم نہیں دی اور صرف مظلوموں کی نسبت لڑائی کرنا جائز رکھا ہے اور نیز یہ کہ جس طرح دشمن نے اُن کا مال لوٹ لیا ہے وہ بھی لوٹ لیں زیادتی نہ کریں۔پس کس قدر بے حیائی، بے شرمی ، بے ایمانی ہے کہ ناحق قرآن شریف پر یہ تہمت تھاپ دی جاتی ہے کہ گویا اُس نے آتے ہی بغیر اس کے کہ فریق ثانی سے مجرمانہ حرکتیں صادر ہوں لوٹ اور قتل کرنے کا حکم دے دیا تھا۔ہمیں ایسی کوئی آیت سارے قرآن شریف میں نہیں ملتی۔۔۔۔خدا تو قرآن شریف میں یہ فرماتا ہے أَذِنَ لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَ إِنَّ اللهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرُ یعنی جن مسلمانوں پر ناحق قتل کرنے کے لئے چڑھائی کی جاتی ہے خدا نے دیکھا کہ وہ مظلوم ہیں اس لئے خدا بھی اُن کو مقابلہ کرنے کے لئے اجازت دیتا ہے۔(چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۰۳، ۲۰۴) ہم ایک اور بات ان جاہلوں کو سناتے ہیں کہ جو خواہ مخواہ جبر کا الزام خدا کے کلام پر دیتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ ملے کے رہنے والے کل کفار اور نیز دیہاتی اور گردو نواح کے لوگ ایسے تھے کہ جنہوں نے اس زمانہ میں کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکہ معظمہ میں تھے اور کوئی جنگ شروع نہ تھا کئی مسلمان نا حق قتل کر دیئے