تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 382
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۸۲ سورة الحج نے توحید کے شائع کرنے کے لئے لڑائیاں کیں۔یادرکھنا چاہئے کہ لڑائیوں کی بنیاد محض سزا دہی کے طور پر اس وقت سے شروع ہوئی کہ جب دوسری قوموں نے ظلم اور مزاحمت پر کمر باندھی۔۔( سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب ، روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحہ ۳۵۱) اسلام نے یہودیوں کے ساتھ تو حید منوانے کے لئے لڑائیاں نہیں کیں بلکہ اسلام کے مخالف خود اپنی شرارتوں سے لڑائیوں کے محرک ہوئے۔بعض نے مسلمانوں کے قتل کرنے کے لئے خود پہلے پہل تلوار اٹھائی۔بعض نے ان کی مدد کی۔بعض نے اسلام کی تبلیغ روکنے کے لئے بے جا مزاحمت کی۔سوان تمام موجبات کی وجہ سے مفسدین کی سرکوبی اور سزا اور شرکی مدافعت کے لئے خدا تعالیٰ نے ان ہی مفسدوں کے مقابل پر لڑائیوں کا حکم کیا۔اور یہ کہنا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرہ برس تک اس وجہ سے مخالفوں سے لڑائی نہیں کی کہ اس وقت تک پوری جمعیت حاصل نہیں ہوئی تھی یہ محض ظالمانہ اور مفسدانہ خیال ہے۔اگر صورت حال یہ ہوتی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالف تیرہ برس تک ان ظلموں اور خونریزیوں سے باز رہتے جو مکہ میں ان سے ظہور پذیر ہوئے اور پھر آپ منصو بہ کر کے یہ تجویز نہ کرتے کہ یا تو آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دینا چاہئے اور یا وطن سے نکال دینا چاہئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آپ ہی بغیر حملہ مخالفین کے مدینہ کی طرف چلے جاتے تو ایسی بدظنیوں کی کوئی جگہ بھی ہوتی لیکن یہ واقعہ تو ہمارے مخالفوں کو بھی معلوم ہے کہ تیرہ برس کے عرصہ میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم دشمنوں کی ہر ایک سختی پر صبر کرتے رہے اور صحابہ کوسخت تاکید تھی کہ بدی کا مقابلہ نہ کیا جائے چنانچہ مخالفوں نے بہت سے خون بھی کئے اور غریب مسلمانوں کو ز دوکوب کرنے اور خطر ناک زخم پہنچانے کا تو کچھ شمار نہ رہا۔آخر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کرنے کے لئے حملہ کیا۔سو ایسے حملہ کے وقت خدا نے اپنے نبی کوشتر اعدا سے محفوظ رکھ کر مدینہ میں پہنچا دیا اور خوشخبری دی کہ جنہوں نے تلوار اٹھائی وہ تلوار ہی سے ہلاک کئے جائیں گے۔پس ذرا عقل اور انصاف سے سوچو کہ کیا اس روئداد سے یہ نتیجہ نکل سکتا ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ جمعیت لوگوں کی ہوگئی تو پھرلڑائی کی نیت جو پہلے سے دل میں پوشیدہ تھی ظہور میں آئی ؟ افسوس ہزار افسوس کہ تعصب مذہبی کے رو سے عیسائی دین کے حامیوں کی کہاں تک نوبت پہنچ گئی ہے۔یہ بھی نہیں سوچتے کہ مدینہ میں جا کر جب مکہ والوں کے تعاقب کے وقت بدر کی لڑائی ہوئی جو اسلام کی پہلی لڑائی ہے تو کون کی جمعیت پیدا ہو گئی تھی۔اس وقت تو کل تین سو تیرہ آدمی مسلمان تھے اور وہ بھی اکثر نو عمر نا تجربہ کار جو میدان بدر میں