تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 383
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۸۳ سورة الحج حاضر ہوئے تھے۔بس سوچنے کا مقام ہے کہ کیا اس قدر آدمیوں پر بھروسہ کر کے عرب کے تمام بہادروں اور یہود اور نصاری اور لاکھوں انسانوں کی سرکوبی کے لئے میدان میں کسی کا نکلنا عقل فتوی دے سکتی ہے؟!!! اس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ نکلنا ان تدبیروں اور ارادوں کا نتیجہ نہیں تھا جو انسان دشمنوں کے ہلاک کرنے اور اپنی فتح یابی کے لئے سوچتا ہے۔کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو کم سے کم تین چالیس ہزار فوج کی جمعیت حاصل کر لینا ضروری تھا اور پھر اس کے بعد لاکھوں انسانوں کا مقابلہ کرنا۔لہذا صاف ظاہر ہے کہ یہ لڑائی مجبوری کے وقت خدا تعالیٰ کے حکم سے ہوئی تھی نہ ظاہری سامان کے بھروسہ پر۔(سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب، روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه ۳۶۵،۳۶۴) فَلَمَّا أَصَابَ الْمُسْلِمِينَ اللله الأولى في پس جس وقت مسلمانوں کو پہلی ذلت مکہ میں مَكّةَ وَعَدَهُمُ اللهُ بِقَوْلِهِ أذِنَ لِلَّذِينَ پہنچی خدا نے اُن سے اپنے اس قول میں وعدہ فرمایا تھا يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَ إِنَّ اللهَ عَلَى أَذِنَ لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ آخر آیت تک اور علی نَصْرِهِمُ لَقَدِيرٌ وَأَشَارَ في قَوْلِهِ عَلى نَصْرِهِمْ کے قول سے اشارہ کیا کہ مومنوں کے ہاتھ نَصْرِهِمْ أَنَّ الْعَذَابَ يُصِيبُ الْكُفَّارَ بِأَيْدِی سے کفار پر عذاب اترے گا۔پس خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ الْمُؤْمِنِينَ، فَأَنْجَزَ اللهُ هذَا الْوَعْدَ يَوْمَ بَدْرٍ بدر کے دن ظاہر ہوا اور کافر مسلمانوں کی آبدار تلوار وقَتَلَ الْكَافِرِيْنَ بِسُيُوفِ الْمُسْلِمِينَ۔سے قتل کیے گئے۔(خطبہ الہامیہ، روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحه ۲۷۷) (ترجمہ اصل کتاب سے ) اسلام میں بجز دفاعی طور کی جنگ یا ان جنگوں کے سوا جو بغرض سزائے ظالم یا آزادی قائم کرنے کی نیت سے ہوں اور کسی صورت میں دین کے لئے تلوار اٹھانے کی اجازت نہیں اور دفاعی طور کی جنگ سے مراد وہ لڑائیاں ہیں جن کی ضرورت اس وقت پیش آتی ہے جب کہ مخالفوں کے بلوہ سے اندیشہ جان ہو۔مسیح ہندوستان میں، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۴) ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ معظمہ میں اور پھر بعد اس کے بھی کفار کے ہاتھ سے دکھ اٹھایا اور بالخصوص مکہ کے تیرہ برس اس مصیبت اور طرح طرح کے ظلم اٹھانے میں گزرے کہ جس کے تصور سے بھی رونا آتا ہے لیکن آپ نے اس وقت تک دشمنوں کے مقابل پر تلوار نہ اٹھائی اور نہ ان کے سخت کلمات کا سخت جواب دیا جب تک کہ بہت سے صحابہ اور آپ کے عزیز دوست بڑی بے رحمی سے قتل کئے گئے اور طرح