تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 381
۳۸۱ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الحج حَتَّى بَلَغَ الْإِيْذَاءُ مُنْعَهَاهُ، وَطالَ مَدَاهُ فَهُنَاكَ میں نہیں ملتی۔تب اس وقت سمیع و خبیر خدا کی نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ مِنَ اللهِ السَّمِيعِ الْخَبِيْرِ أَذِنَ طرف سے یہ آیت نازل ہوئی أَذِنَ لِلَّذِيْنَ لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَ إِنَّ اللهَ عَلَى يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَ إِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرُ - نَصْرِهِم لَقَدِيرُ - فَانْظُرُوا كَيْفَ صَبَرَ رَسُولُ اللهِ وَخَيْرُ پس دیکھو کس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الرُّسُلِ عَلَى ظُلْمِ الْكَفَرَةِ إِلَى بُرْهَةٍ مِنَ الزَّمَانِ، نے کافروں کے ظلم پر ایک لمبا عرصہ صبر کیا، اور وَدَفَعَ بِالْحَسَنَةِ الشَّيْئَةَ حَتَّى تَمَّتْ مُجَةُ الله برائی کا جواب نیکی سے دیا یہاں تک کہ بدلہ دینے الشَّيَانِ، وَانْقَطعَتْ مَعَاذِيرُ الْكَافِرِينَ۔فَاعْلَمُوا والے خدا کی حجت پوری ہوگئی اور کافروں کے سب أَنَّ اللهَ لَيْسَ كَقَضَابِ يَعْبَطُ الشّاةَ بِغَيْرِ عذر ختم ہو گئے۔پس جان لو کہ اللہ تعالیٰ اس قصاب جَرِيمَةٍ، بَلْ هُوَ عَلِيْمٌ عَادِلٌ لَّا يَأْخُذُ مِنْ غَيْرِ کی طرح نہیں جو بکری کے جرم کے بغیر اسے ذبح کر دیتا ہے بلکہ وہ حلیم اور عادل ہے اور بغیر اتمام حجت إثْمَامِ حجة انجام آتھم ، روحانی خزائن جلد ۱۱ صفحہ ۱۳۸ تا ۱۴۰ کے کسی پر گرفت نہیں کرتا۔( ترجمہ از مرتب ) قرآن کی تعلیم سے بے شک ثابت ہوتا ہے کہ یہود اور نصاری سے لڑائیاں ہوئیں۔مگر ان لڑائیوں کا ابتدا اہل اسلام کی طرف سے ہر گز نہیں ہوا اور یہ لڑائیاں دین میں حیر اداخل کرنے کے لئے ہر گز نہیں تھیں بلکہ اس وقت ہوئیں جبکہ خود اسلام کے مخالفوں نے آپ ایذا دے کر یا موذیوں کو مدد دے کر ان لڑائیوں کے اسباب پیدا کئے۔اور جب اسباب انہیں کی طرف سے پیدا ہو گئے تو غیرت الہی نے ان قوموں کو سزا دینا چاہا اور اس سزا میں بھی رحمت الہی نے یہ رعایت رکھی کہ اسلام میں داخل ہونے والا یا جزیہ دینے والا اس عذاب سے بچ جائے۔یہ رعایت بھی خدا کے قانون قدرت کے مطابق تھی۔کیونکہ ہر ایک مصیبت جو عذاب کے طور پر نازل ہوتی ہے مثلاً و با یا تھا تو انسانوں کا کانشنس خود اس طرف متوجہ ہو جاتا ہے کہ وہ دعا اور تو بہ اور تضرع اور صدقات اور خیرات سے اس عذاب کو موقوف کرانا چاہیں۔چنانچہ ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے۔اس سے یہ ثبوت ملتا ہے کہ رحیم خدا عذاب کو دور کرنے کے لئے خود الہام دلوں میں ڈالتا ہے۔جیسا کہ حضرت موسیٰ کی دعائیں کئی دفعہ منظور ہو کر بنی اسرائیل کے سر سے عذاب ٹل گیا۔غرض اسلام کی لڑائیاں سخت طبع مخالفوں پر ایک عذاب تھا جس میں ایک رحمت کا طریق بھی کھلا تھا۔سو یہ خیال کرنا دھوکہ ہے کہ اسلام یہ