تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 12
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۲ سورة ابراهيم میں مصروف ہیں۔اللہ جل شانہ قرآن شریف کے کئی مقامات میں بتصریح ظاہر فرماتا ہے کہ جو کچھ زمین و آسمان میں پیدا کیا گیا ہے وہ تمام چیزیں اپنے وجود میں انسان کی طفیلی ہیں یعنی محض انسان کے فائدہ کے لئے پیدا کی گئی ہیں اور انسان اپنے مرتبہ میں سب سے اعلیٰ وارفع اور سب کا مخدوم ہے جس کی خدمت میں یہ چیزیں لگا دی گئی ہیں جیسا کہ وہ فرماتا ہے وَسَخَّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَابِبَيْنِ ۚ وَسَخَّرَ لَكُمُ الَّيْلَ وَالنَّهَارِ۔۔۔۔۔۔۔۔اور مسخر کیا تمہارے لئے سورج اور چاند کو جو ہمیشہ پھرنے والے ہیں یعنی جو باعتبارا اپنی کیفیات اور خاصیات کے ایک حالت پر نہیں رہتے مثلاً جور بیج کے مہینوں میں آفتاب کی خاصیت ہوتی ہے وہ خزاں کے مہینوں میں ہرگز نہیں ہوتی پس اس طور سے سورج اور چاند ہمیشہ پھرتے رہتے ہیں بھی ان کی گردش سے بہار کا موسم آجاتا ہے اور کبھی خزاں کا اور کبھی ایک خاص قسم کی خاصیتیں ان سے ظہور پذیر ہوتی ہیں اور کبھی اس کے مخالف خواص ظاہر ہوتے ہیں۔پھر آگے فرمایا کہ مسخر کیا تمہارے لئے رات اور دن کو۔توضیح مرام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۷۵،۷۴) وَ الكُم مِّن كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ وَ إِنْ تَعدُّوا نِعْمَتَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا إِنَّ الْإِنْسَانَ لَظَلُومٌ كَفَّارُ اور دیا تم کو ہر یک چیز میں سے وہ تمام سامان جس کو تمہاری فطرتوں نے مانگا یعنی ان سب چیزوں کو دیا جن کے تم محتاج تھے اور اگر تم خدائے تعالیٰ کی نعمتوں کو گننا چاہو تو ہر گز گن نہیں سکو گے۔ہے۔توضیح مرام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۷۵) وَ إِنْ تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللهِ لَا تُخصوصا۔۔۔۔۔اور اگر تو خدا کی نعمتوں کو گننا چاہے تو یہ تیرے لئے غیر ممکن برائین احمدیہ حصہ چہار روحانی خزائن جلد اصلحه ۶۲۳ حاشیه در حاشیه نمبر ۳) اگر تم خدا تعالیٰ کی نعمتوں کو گننا چاہو تو ہر گز گن نہیں سکتے۔(جنگ مقدس، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۰۹) زمین و آسمان پر نظر ڈالنے سے صریح ہمیں نظر آتا ہے کہ خدا وند تعالیٰ نہایت ہی کریم ہے اور سچ سچ جیسا کہ اس نے فرمایا ہے وَ اِنْ تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللهِ لَا تُحْصُوصا اس کی نعمتیں شمار سے خارج ہیں۔(شحنه حق ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۴۰۵)